دبئی، 9 مارچ (ایس او نیوز/گلف نیوز/ایجنسی): امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے نویں دن ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی فضائی خطرات کے پیش نظر متعدد میزائل اور ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دبئی میں فضائی دفاعی کارروائی کے دوران تباہ کئے گئے ایک میزائل کا ملبہ ایک گاڑی پر گرنے سے ایک رہائشی ہلاک ہوگیا۔ حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دفاعی نظام نے فضائی خطرے کو ناکام بنانے کے لئے میزائل کو فضا میں تباہ کیا۔
دوسری جانب سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد میزائلوں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔ خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث سیکورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
اس دوران دبئی ایئرپورٹس نے اعلان کیا ہے کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد جزوی طور پر فضائی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، تاہم دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) اور دبئی ورلڈ سنٹرل (DWC) سے فی الحال محدود پروازیں ہی چلائی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز نے بھی محدود فضائی خدمات بحال کرنا شروع کر دی ہیں۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 9 مارچ 2026 تک برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 107.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی اور خلیج میں واقع اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت تقریباً 107.1 ڈالر فی بیرل جبکہ مربان کروڈ کی قیمت 103.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔