چندی گڑھ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ سے غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر دو خصوصی پروازیں امرتسر پہنچنے والی ہیں۔ پہلی پرواز 15 فروری کو جبکہ دوسری 16 فروری کو لینڈ کرے گی۔ ان پروازوں کی امرتسر آمد کو لے کر پنجاب میں سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس سے قبل، 5 فروری کو ایک پرواز 104 غیر قانونی تارکین وطن کو لے کر امرتسر پہنچی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک بدر کیے گئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے صرف امرتسر کا انتخاب کیوں کیا گیا، جبکہ انہیں دیگر ریاستوں میں بھی اتارا جا سکتا تھا۔
پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا۔ وہ جمعہ کو امرتسر پہنچے اور اس معاملے پر پریس کانفرنس کی۔ بھگونت مان نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت پنجاب کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ کبھی مرکزی حکومت پنجاب کے فنڈز روک دیتی ہے، اب امریکہ سے ملک بدر کئے جانے والے ہندوستانیوں کے طیارے امرتسر میں اتارے جا رہے ہیں، پہلا طیارہ بھی امرتسر میں اترا، وزیر اعلیٰ مان نے کہا کہ مرکزی حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے، اس کے لیے امرتسر کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف بدنام کرنے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ یہ قومی مسئلہ ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم مودی ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ملک بدر کیے گئے لوگوں کو بیڑیوں میں ڈال کر واپس بھیجا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ اس طیارے کو امبالہ میں کیوں نہیں اتارا جا رہا، یہ صرف پنجاب اور پنجابیوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ جب فلائٹ شروع کرنے کا کہا جاتا ہے تو مودی سرکار کو ہماری یاد نہیں آتی اور اب امریکہ سے آنے والے ان طیاروں کو امرتسر میں اتارا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیمہ نے بھی مرکزی حکومت پر سیاسی سازش کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت پنجاب کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر امریکہ سے آنے والی پروازوں کو امرتسر میں اتار رہی ہے۔ یہ پروازیں ہریانہ یا گجرات میں کیوں نہیں اترتی ہیں؟ یہ واضح ہے کہ بی جے پی پنجاب کو نشانہ بنا رہی ہے۔