غازی پور، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کے خلاف مہاکمبھ پر دیے گئے متنازعہ بیان کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جو لوگ برائی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، لیکن میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں عوام کا منتخب نمائندہ ہوں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرتا رہوں گا۔ اگر ہمیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
افضال انصاری نے کہا کہ ہم دنیا میں 'وشو گرو' ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں 85ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ ہندوستانی کرنسی کی قدر گرتے ہوئے 86 روپے فی ڈالر ہو گئی ہے۔ ملک 200 لاکھ کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور قرض پر سود چکانے کے لیے مزید قرض لینا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے قومی وسائل نجی ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں، جس سے عوام متاثر ہو رہی ہے۔ ملک میں افراتفری کا ماحول ہے، ریلوے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جو لوگ ان مسائل کو اٹھاتے ہیں، انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن برائی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو دھمکیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ انہیں مزید حوصلہ اور توانائی ملتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ افضال انصاری نے مہاکمبھ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا مانا جاتا ہے کہ مہاکمبھ کے دوران مقدس سنگم میں اشنان کرنے سے گناہ دھل جاتے ہیں لیکن ہجوم کی شدت دیکھ کر لگتا ہے کہ اب نرک میں کوئی نہیں بچے گا اور سورگ مکمل طور پر بھر جائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد ان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔