نئی دہلی 24/جولائی (ایس او نیوز): معروف ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک نے مرکزی حکومت کی جانب سے بعض اہم یقین دہانیوں کے بعد اپنی 26 روزہ غیر معینہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم طلبہ کی تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتاپارٹی (CJP) نے واضح کیا ہے کہ احتجاج ختم نہیں ہوگا اور جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، تحریک پرامن انداز میں جاری رہے گی۔
سونم وانگچک نے 28 جون کو دہلی میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کی ہڑتال کا مقصد مبینہ امتحانی پرچہ لیک معاملات، خصوصاً نیٹ (NEET) سمیت دیگر قومی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور اصلاحات کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان کی ہڑتال کو ملک بھر میں طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور مختلف عوامی شخصیات کی وسیع حمایت حاصل ہوئی۔
سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جاری اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے مرکزی وزیر جے پی نڈا اور وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ ان سے ملاقات کے لیے اسپتال پہنچے۔ ان کے ساتھ لیہہ لداخ ایپکس باڈی کے سینئر نمائندے بھی موجود تھے۔ وانگچک کے مطابق حکومت کے ساتھ مختلف مطالبات پر طویل مذاکرات کے بعد انہیں متعدد اہم امور پر تحریری یقین دہانیاں فراہم کی گئیں، جن پر دونوں مرکزی وزراء کے دستخط بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہی تحریری یقین دہانیوں اور ملک میں ممکنہ کشیدگی و تشدد کے خدشات کے پیش نظر انہوں نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
وانگچک نے واضح کیا کہ حکومت نے تحریری طور پر یقین دلایا ہے کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ اور جنتر منتر پر پرامن احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہوگی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب امداد دینے پر بھی مثبت غور کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں دی گئی، اس لیے یہ مطالبہ بدستور برقرار ہے۔ وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کو مکمل طور پر پرامن رکھیں اور کسی بھی صورت میں تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں۔
دوسری جانب سی جے پی کے رہنما ابھجیت ڈپکے نے واضح کیا کہ وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کا مطلب تحریک کا خاتمہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی یقین دہانیاں ناکافی ہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ بدستور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، امتحانی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی، متاثرہ طلبہ کو انصاف اور پورے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر پرامن احتجاج جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، لاٹھی چارج اور متعدد مظاہرین کی گرفتاریوں کے بعد احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کی حمایت میں مظاہرے ہوئے اور حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا خاتمہ موجودہ بحران میں ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن چونکہ احتجاجی تنظیمیں اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان مزید مذاکرات اور سیاسی پیش رفت متوقع ہے۔