بنگلورو، 15/ فروری (ایس او نیوز / ایجنسی) اکھل بھارت ویرشَیوا لنگایت مہاسبھا اور شانتی وردھک شکشن سنستھا کے زیرِ اہتمام آنجہانی لیڈر ڈاکٹر بھیمنّا کھنڈرے کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ نے شرکت کرتے ہوئے مرحوم رہنما کی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا۔
وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر بھیمنّا کھنڈرے سادگی اور شرافت کا پیکر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی سماج کی بھلائی اور عوامی خدمت کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کی فلاح کے نظریے پر یقین رکھتے ہوئے کھنڈرے نے عوامی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور 102 برس تک سماجی شعور کے ساتھ بامقصد زندگی گزاری۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کھنڈرے نے ذات پات اور اونچ نیچ کے امتیاز کی ہمیشہ مخالفت کی اور 1960 کی دہائی میں ہی چھوا چھوت کے خلاف آواز بلند کی۔ مساوات، انصاف اور انسانی اقدار پر مبنی سماج کی تعمیر ان کا خواب تھا، اور وہ چاہتے تھے کہ غریب و محروم طبقات عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ڈاکٹر کھنڈرے سینئر کانگریس قائد تھے اور مہاتما گاندھی سے متاثر ہوکر تحریکِ آزادی میں سرگرم رہے۔ حیدرآباد کرناٹک کی آزادی اور انضمام کی تحریک میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ کرناٹک کے اتحاد اور کنڑ زبان کے تحفظ کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لینے پر ڈاکٹر چنّابسوا پٹّدیورو نے انہیں ’’لوک نایک‘‘ کا خطاب دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر کھنڈرے نے زراعت، تعلیم، کوآپریشن، قانون، پسماندہ طبقات کی فلاح اور دیہی ترقی سمیت ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 1972 کے قحط کے دوران کسانوں کی مدد کے لیے بیج تحریک شروع کی اور کسان ریلیوں کے ذریعے ان کے مسائل کو مرکز تک پہنچایا۔ بیدر ضلع کو کرناٹک میں برقرار رکھنے اور اس کی ہمہ جہت ترقی میں بھی ان کا کردار اہم رہا۔
بطور رکنِ اسمبلی، وزیر، رکنِ قانون ساز کونسل اور اسپیکر انہوں نے ریاست کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے شانتی وردھک شکشن سنستھا کے قیام اور فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا، خصوصاً لڑکیوں اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ اور انجینئرنگ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں ان کی کوششیں قابلِ ستائش رہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بیدر کوآپریٹو شوگر فیکٹری کے قیام کے ذریعے کسانوں کی ترقی کے لیے کام کرنے پر انہیں شعبۂ کوآپریشن کا ’’بھیشم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ذاتی طور پر ڈاکٹر کھنڈرے کی رہنمائی حاصل رہی اور ان کے مشوروں سے کئی رہنماؤں کو سمت ملی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کھنڈرے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر سب کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھتے تھے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ان کی خاص صفت تھی۔ اکھل بھارت ویرشَیوا لنگایت مہاسبھا کے اعزازی صدر کی حیثیت سے انہوں نے سماج میں تعلیم، تنظیم اور روحانی اقدار کے فروغ کے لیے کام کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر بھیمنّا کھنڈرے کی وفات ریاست کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور امید ظاہر کی کہ ان کی بے لوث خدمت، دیانت داری اور عوامی فلاح کے لیے عزم نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔