یادگیر، 14 جون (ایس او نیوز/ایجنسی): وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کلیان کرناٹک کی ترقی کے لیے کانگریس حکومت کے اقدامات کا بھرپور ذکر کرتے ہوئے اسے پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے دفعہ 371-J نافذ کیا، جس سے کلیان کرناٹک کو آئینی شناخت ملی اور خصوصی مراعات فراہم ہوئیں۔
یادگیر میں کلیان کرناٹک علاقائی ترقیاتی بورڈ (KKRDB) کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں KKRDB کے لیے 13,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 5,300 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ’’آروگیہ آوشکار‘‘ اسکیم کے تحت 440.63 کروڑ روپے کی لاگت والے منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں کو بھی الگ سے فنڈ دیے جا رہے ہیں تاکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں بہتری لائی جا سکے۔ سدارامیا نے اعلان کیا کہ ریاست بھر میں 42 سرکاری اسپتالوں کو اپگریڈ کرنے اور نئے اسپتال قائم کرنے کے لیے 847 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے آنجہانی کولور مالپا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی یادگار تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ساتھ ہی بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ کلیان کرناٹک کی ترقی میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل کے اڈوانی، جو اس وقت نائب وزیر اعظم تھے، نے 371-J کو نافذ نہ کرنے کی مخالفت کی تھی، لیکن منموہن سنگھ، ملیکارجن کھرگے اور دھرم سنگھ کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا۔
سدارامیا نے کہا کہ کانگریس حکومت نے بسویشور کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے تقریباً 200 وعدے پورے کر لیے ہیں، جن میں مشہور پانچ گارنٹی اسکیمیں بھی شامل ہیں۔ آئندہ تین برسوں میں بقیہ وعدے بھی مکمل کیے جائیں گے، تاکہ کلیان کرناٹک سمیت پوری ریاست کی جامع ترقی ممکن ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ کرناٹک میں جی ایس ٹی کی بلند ترین وصولی ریاست کی اقتصادی ترقی کی علامت ہے، اور کلیان کرناٹک میں خالی سرکاری عہدوں کو پُر کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔