بنگلورو، 2 جولائی (ایس او نیوز): کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے جنوبی تعلقہ میں واقع مادپٹن (Madappattana) گاؤں کے قریب تاورکیرے علاقے میں ایک پتھر کی کان (Stone Quarry/Crusher Unit) میں پیش آئے ہولناک حادثے میں سات مزدور ہلاک ہوگئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کان میں کام کے دوران ایک بڑی چٹان اچانک مزدوروں پر آگری، جس کے نتیجے میں وہ ملبے تلے دب گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مزدور کان میں پتھروں کی کٹائی اور کرشر کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک بھاری چٹان کھسک کر نیچے آگئی۔ حادثے کے فوراً بعد پولیس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروس، ایس ڈی آر ایف اور مقامی انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔ پہلے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مزید افراد بھی ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں، تاہم ریسکیو کارروائی کے دوران سات مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے بیشتر مزدور دوسرے اضلاع سے روزگار کی تلاش میں بنگلورو آئے تھے۔ پولیس نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حفاظتی اصولوں کی عدم پابندی یا چٹان کی کمزوری اس سانحے کا سبب بن سکتی ہے، تاہم سرکاری سطح پر حتمی وجہ کا اعلان تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
حادثے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارا سوامی نے اس سانحہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
دوسری جانب بعض دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی کان کے مالک اور متعلقہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔