ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کمل ہاسن کے بیان پر کرناٹک ہائی کورٹ کی دو ٹوک تنبیہ: زبان، زمین اور جذبات سے مت کھیلیں

کمل ہاسن کے بیان پر کرناٹک ہائی کورٹ کی دو ٹوک تنبیہ: زبان، زمین اور جذبات سے مت کھیلیں

Tue, 03 Jun 2025 17:24:23    S O News

بنگلورو، 3 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)تمل فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور سیاست میں قدم رکھنے والے کمل ہاسن ایک مرتبہ پھر تنازعے کا شکار ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک بیان کے دوران انہوں نے تمل زبان کو کنڑ زبان کی "ماں" قرار دیا، جس پر کرناٹک میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ اس بیان نے ریاست میں تہلکہ مچا دیا ہے اور نہ صرف عوام بلکہ کئی کنڑ اتنظیمیں اور سیاسی حلقے بھی سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ یہ معاملہ اب کرناٹک ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

کمل ہاسن نے اپنی آنے والی فلم تھگ لائف کی ریلیز کے لیے پولیس تحفظ کی درخواست دی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ان کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت تنبیہ کی۔ جسٹس ایم ناگپرسنا پر مشتمل سنگل بنچ نے واضح طور پر کہا کہ "زبان، زمین اور پانی محض الفاظ نہیں، بلکہ جذبات سے جڑے مقدس عناصر ہیں۔ آزادیٔ اظہار کا حق سب کو حاصل ہے، مگر جب یہ کسی ریاست کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اس کی حدود ختم ہو جاتی ہیں۔"

عدالت نے اداکار کو مشورہ دیا کہ وہ خلوص دل سے عوام سے معافی مانگیں تاکہ ماحول کو پرامن رکھا جا سکے۔ جسٹس ناگپرسنا نے کہا: "جب عوام صرف ایک معذرت چاہتے ہیں، تو ضد کی ضرورت کیا ہے؟ بہادری یہ ہے کہ اگر انجانے میں بھی دل آزاری ہوئی ہو تو فوری معذرت کر لی جائے۔"

اداکار کے وکیل، سینئر ایڈوکیٹ دھیان چناپا نے وضاحت دی کہ کمل ہاسن کے بیان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ یہ ایک تاریخی حوالہ تھا۔ مگر عدالت نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف رسمی وضاحت کافی نہیں، بلکہ دل سے کی گئی معذرت ضروری ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر فلم کی پرامن ریلیز مقصود ہے تو اداکار کو عوامی سطح پر اظہارِ افسوس کرنا ہوگا، ورنہ حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے کہا: "جب سی راج گوپال آچاریہ جیسے قومی رہنما اپنے کنڑ مخالف بیان پر معافی مانگ سکتے ہیں، تو ایک اداکار ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟"

فلم تھگ لائف 5 جون کو ریلیز ہونے جا رہی ہے، مگر عدالت کی تنبیہ اور کنڑا تنظیموں کی مخالفت کے بعد فلم کی ریلیز خطرے میں پڑتی نظر آ رہی ہے۔ عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے اس مسئلے کو محض فلمی تنازعہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور لسانی احترام کا معاملہ قرار دیا۔


Share: