ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امریکہ۔ایران جنگ کے نتائج کی پیش گوئی ممکن نہیں: کیرلم میں راہل گاندھی کا بیان

امریکہ۔ایران جنگ کے نتائج کی پیش گوئی ممکن نہیں: کیرلم میں راہل گاندھی کا بیان

Sun, 08 Mar 2026 11:33:54    S O News

ترواننت پورم، 8/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ہمارے لاکھوں بھائی اور بہنیں مشرقِ وسطیٰ میں رہتے ہیں، جو وہاں سے ہندوستان پیسے بھیجتے ہیں۔ وہ اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ جنگ کی موجودہ حالت میں کیا ہوگا۔‘‘ یہ بیان انھوں نے کیرلم میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ میں کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن ایک بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ہم دنیا میں ایک نئے، غیر مستحکم اور خطرناک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں محتاط رہنا ہوگا، اپنی طاقت اور اپنے لوگوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔‘‘

دراصل راہل گاندھی کیرلم میں ’پتھویوگا یاترا‘ کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، اور اس دوران انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ کیرلم کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم مودی کو ایک خوفزدہ وزیر اعظم ٹھہراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ کے قبضہ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ برسر عام ہندوستانی وزیر اعظم کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ وہ پی ایم مودی کے سیاسی کیریئر کو تباہ کر سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’جس طرح مودی کو ٹرمپ کنٹرول کرتے ہیں، اسی طرح مودی کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’سی بی آئی اور ای ڈی ملک بھر میں اپوزیشن لیڈران کے خلاف تیزی سے کارروائی کرتے ہیں، لیکن کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کیرلم کے لوگوں کی تعریف بھی کی اور کہا کہ مشکل وقت میں ہمیشہ انھوں نے ساتھ دیا۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’جب بی جے پی اور آر ایس ایس میری بے رحمی اور شدت کے ساتھ مسلسل مخالفت کر رہے تھے، اس وقت کیرالہ نے مجھے گلے لگایا۔ کہا جاتا ہے کہ مشکل وقت میں ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے حقیقی دوست کون ہیں۔ سب سے مشکل وقت میں مجھے معلوم ہوا کہ کیرلم میرا دوست ہے۔ صرف دوست ہی نہیں بلکہ میرا محافظ بھی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’کیرلم کی عوام نے مجھے بہت اپنائیت کا احساس کرایا ہے۔ اس لیے میں کیرلم کی عوام کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوں جو وہ چاہتے ہیں۔ میں ہمیشہ کیرلم کی عوام کا سپاہی رہوں گا۔‘‘

راہل گاندھی نے تقریب میں جمع بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’سی پی آئی‘ کا مطلب ’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا‘ نہیں ہے، بلکہ ’کارپوریٹ پارٹی آف انڈیا‘ ہے۔ انھوں نے پینارائی وجین کی حکومت کو کیرالہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کارپوریٹ نواز حکومت قرار دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ یہ حکومت مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں اور کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے، یہ بڑے کاروباری گھرانوں کے مفادات کے حق میں کام کر رہی ہے۔

کیرلم کے لوگوں سے راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر کوئی جانتا ہے ایل ڈی ایف حکومت نے کیرلم میں بے روزگاری کا ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ مودی نے ہندوستان میں روزگار کے نظام کو تباہ کیا، اور سی پی آئی (ایم) نے کیرلم میں روزگار کے نظام کو برباد کر دیا۔‘‘ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد کیرالہ میں روزگار کے مواقع دوبارہ پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدام اٹھائے جائیں گے۔ ساتھ ہی چھوٹے و درمیانہ درجہ کے کاروباریوں کی حمایت کی جائے گی۔ ان کوششوں کے بعد کیرلم میں ایک بار پھر روزگار کے مواقع بحال ہو جائیں گے۔


Share: