نئی دہلی ، 25/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی پولیس سپریم کورٹ نے جمعہ کو امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف درخواستوں پر۲۷؍ جولائی کو سماعت کافیصلہ کیا ہے۔ اُدھر ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف) جس پر پیلٹ گن کے استعمال کا الزام ہے اور جو اب تک تردید کررہی تھی، نے ڈاکٹروں کی رپورٹوں میں پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق کے بعد اپنے افسران کے خلاف جانچ شروع کردی ہے۔
طلبہ پر مظالم کا معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے پیش کیا اور کہا کہ مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد سے متعلق دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے معاملے کی فوری نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خلاف ملک بھر میں پولیس کی زیادتی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، اس لیے عدالتی مداخلت فوری طور پر ضروری ہے۔ اس سے کورٹ نے اتفاق کیا۔
دوسری طرف آر اے ایف نے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ انسپکٹر جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ احتجاج پر قابو پانے کے دوران فورس کی مختلف ٹیموں کی کارروائیوں کی ترتیب وار جانچ کریں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ان میڈیا رپورٹس کو جمعہ کو ’’لاپرواہی‘‘ پر مبنی اور’’غلط‘‘ قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر تے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔‘‘ چیف جسٹس نےکہا کہ اس معاملے میں عدالت کے سامنے کوئی باقاعدہ عرضی دائر ہی نہیں کی گئی تھی بلکہ صرف زبانی طور پر معاملہ پیش کیا گیا تھا اس لیے سماعت سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔