بھٹکل 13 / اگست (ایس او نیوز) سپریم کورٹ اور دہلی کی عدالت کے بعد اب راجستھان ہائی کورٹ نے بھی آوارہ کتوں پر قابو پانے کے لئے مقامی بلدی اداروں کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرائیں۔
تین دن پہلے سپریم کورٹ نے اپنا ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا تھا کہ دہلی این سی آر علاقے میں تمام آوارہ کتوں کو گلی محلوں اور عام جگہوں سے دور رکھنے کے لئے خصوصی طور پر تیار کیے گئے شیلٹرز میں منتقل کیا جائے۔
اس کے بعد راجستھان ہائی کورٹ نے بھی اس ضمن میں اپنا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو آوارہ کتوں سے بہت زیادہ پیار ہے یا مذہبی اسباب کی بنیاد پر وہ کتوں کو کھلانا پلانا چاہتے ہیں تو انہیں کتوں کے لئے تیار کیے گئے خصوصی شیلٹرز میں جا کر یہ کام انجام دینا چاہیے۔ اس کے بجائے سڑکوں پر آوارہ کتوں کے لئے کھانا فراہم کرکے ان کی آبادی بڑھانے کا کام نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ کتوں پر قابو پانے کے لئے اقدام کرنے والے بلدیہ کے عملہ کو روکنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے بلدیہ کے افسران کو اختیارات حاصل رہیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو ایسے افراد یا تنظیموں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔
ضلع اتر کنڑا کا حال : ہمارے اپنے ضلع اُترکنڑا اور خاص طور پر بھٹکل شہر میں بھی بچوں پر آوارہ کتوں کے حملوں کی وارداتیں گویا روز کا معمول بن گئی ہیں ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 7 مہینوں میں اتر کنڑا ضلع میں آوارہ کتوں کے حملوں کے 7 ہزار واقعات پیش آچکے ہیں۔
دیگر اضلاع کا کیا حال ہے ؟ :اسی میعاد میں دیگر اضلاع کے اندربھی کتوں کے کاٹنے کے متعدد واقعات پیش آئےہیں ان کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو آوارہ کتوں کے حملوں کے ضمن میں وجے پور ضلع 15,527 معاملوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اس کے بعد بینگلورو 13,821، دکشن کنڑا 12,524، باگلکوٹ 12,391، دھارواڑ7 ہزار، بیلگاوی 7 ہزار، گدگ 7 ہزار، چامراج نگر 1,500 اور کوڈوگو ضلع میں 1,500 معاملے درج ہوئے ہیں۔
اب عدالت عالیہ اور راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلے سامنے آنے کے بعد ہرریاست کے بلدی ادارے مقامی طور پر اپنے یہاں آوارہ کتوں پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات کرسکتے ہیں۔ جانوروں سے پریم کے بہانے سڑکوں پر آوارہ کتوں کی پرورش کے لئے سرگرم رہنے اور کتوں کے خلاف کارروائی کرنے پراحتجاج اور رکاوٹ کرنے والوں کا راستہ عدالتوں کے ان فیصلوں کی بنیاد پر اب بند کیا جا سکتا ہے اور فوری طور پر آوارہ کتوں کو شہر کی گلیوں اور سڑکوں سے ہٹانے کے اقدامات کا منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح عوام کو کتوں کے عذاب سے مستقل نجات دلا سکتے ہیں۔