وجئے پور، 5 جون (ایس او نیوز): کرناٹک حکومت کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دینے کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو احتجاج کرنے والے بی جے پی سے معطل رکن اسمبلی بسنگوڑا پاٹل یتنال اور ان کے متعدد حامیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
اطلاعات کے مطابق یتنال کے حامی صبح کے وقت شہر کے دربار ہائی اسکول اور دربار کالج کے اطراف زعفرانی شالیں (کیسری شال) لے کر جمع ہوئے تھے۔ ان کا مقصد طلبہ میں زعفرانی شالیں تقسیم کرکے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج درج کرانا تھا۔
پولیس نے پیشگی احتیاطی اقدام کے طور پر طلبہ میں شالیں تقسیم کرنے کی کوشش کو روک دیا، جس کے بعد یتنال کے حامیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ کچھ دیر کے لیے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا اور مظاہرین نے حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

بعد ازاں بسنگوڑا پاٹل یتنال خود بھی موقع پر پہنچے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے طلبہ میں زعفرانی شالیں تقسیم کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں اور ان کے متعدد حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران مشتعل حامیوں نے پولیس گاڑی کے سامنے بیٹھ کر احتجاج بھی کیا۔
پولیس حکام کے مطابق یتنال اور ان کے حامیوں کو پولیس گاڑی میں لے جایا گیا، جبکہ اضافی پولیس فورس تعینات کرکے صورتحال کو قابو میں لایا گیا۔ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ بی۔ لکشمن نمبرگی سمیت سینئر افسران بھی موقع پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔
بعد میں یتنال اور ان کے حامیوں کو رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یتنال نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت دینے کے فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے۔
واضح رہے کہ 14 مئی کو وزیراعلیٰ سدارامیا کی حکومت نے 5 فروری 2022 کے اُس حکم نامے کو واپس لے لیا تھا جس کے تحت تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس اور مذہبی علامات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکومت کی نئی ہدایات کے مطابق حجاب کے ساتھ ساتھ جنیو، رودر اکش اور شیو منی جیسی دیگر مذہبی علامات اور روایتی مذہبی اشیا کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی ہے۔