بھٹکل، 2 جون (ایس او نیوز): قومی شاہراہ 66 کی توسیعی منصوبے کے باعث بھٹکل میں پیدا ہونے والے "مورین کٹّے" تنازعہ کو بالآخر حل کرلیا گیا ہے۔ رکن پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری نے اعلان کیا ہے کہ متعلقہ کٹے کو اس کے اصل مقام پر ہی دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
منگل کے روز بھٹکل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاگیری نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، تعلقہ انتظامیہ، پولیس، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے حکام اور مختلف ہندو تنظیموں کے ساتھ متعدد اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 24 مئی کو شاہراہ کی توسیع کے سبب مورین کٹّے کو اس کی سابقہ جگہ سے منتقل کرکے قریب ہی ایک نئی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا، تاہم اسی روز شام کو بعض افراد نے اس ڈھانچے کو منہدم کر دیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا تھا۔
کاگیری کے مطابق مختلف آراء، مذہبی جذبات اور ٹریفک کی حفاظت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کٹّے کو شاہراہ کے درمیانی ڈیوائیڈر کے علاقے میں اس کی اصل جگہ پر دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 120 مربع فٹ رقبے پر سات فٹ لمبا ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا، جبکہ روشنی اور دیگر ضروری حفاظتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں تعمیراتی نقشہ تیار کر لیا جائے گا۔

اس موقع پر سابق رکن اسمبلی سنیل نائک نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعہ کے دوران پیش آنے والے حملوں اور تشدد کے معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور بے قصور افراد کو ہراساں نہ کیا جائے۔
بی جے پی رہنما گووند نائک نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کی فضا برقرار رہے۔
دریں اثنا، کاگیری نے 5 جون کو بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار اور احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کسی فرد یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری نہیں ہے اور سماجی مسائل پر ہندو تنظیموں کا آواز اٹھانا قابلِ استقبال ہے۔
پریس کانفرنس سے قبل رکن پارلیمان، سابق رکن اسمبلی اور بی جے پی رہنماؤں نے متنازع مقام کا دورہ کیا اور این ایچ اے آئی حکام کے ساتھ تعمیرِ نو کے مجوزہ منصوبے کا جائزہ لیا۔