بھٹکل 29/مئی (ایس او نیوز): بھٹکل کی نوائط کالونی میں نیشنل ہائی وے کنارے زیرِ تعمیر متنازعہ ’’مورین کٹے‘‘ کو منہدم کیے جانے کے معاملے کو لے کر بی جے پی نے جمعہ کے روز ایک احتجاجی ریلی منعقد کی، جس میں کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر۔ اشوک، اتر کنڑا کے رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری سمیت ضلع کے متعدد بی جے پی قائدین نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آر۔ اشوک نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مورین کٹے کو منہدم کیا جانا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے فون پر رابطہ کرکے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور صرف گرفتاری ہی نہیں بلکہ ملزمین کو ضلع بدر کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے ہندو سماج کے جذبات کا احترام کرنے کے بجائے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک پُرامن علاقے میں بعض عناصر نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حکومت قانون و نظم برقرار رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔

آر۔ اشوک نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مذہبی معاملات میں توازن برقرار نہیں رکھا جا رہا ہے اور عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کی خوشنودی کے لیے پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں، جس سے سماج میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے منڈیا سمیت مختلف مقامات کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی گنیش جلوسوں پر پابندی لگانے یا رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام نے مزید بڑے پیمانے پر جلوس نکال کر جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ماتا، قومی ترانے اور مذہبی عقائد کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک کی یکجہتی و ثقافت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کو عوام قبول نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے حق میں نہیں ہے، لیکن اگر مذہب، عقیدے اور قومی وقار کی توہین کی گئی تو جمہوری طریقے سے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
اپنے خطاب میں آر۔ اشوک نے کہا کہ صرف ’’امن، امن‘‘ کی بات کرتے رہنے سے حقوق سلب ہونے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور انصاف کے لیے جدوجہد بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام ہندوؤں سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذہب اور ثقافت پر حملہ ہوگا تو ریاست کا امن و امان بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقررہ مدت کے اندر مورین کٹے کی دوبارہ تعمیر مکمل کی جائے، ورنہ وہ خود کھڑے ہوکر اس کی تعمیر کروائیں گے۔
آر۔ اشوک نے اپنے خطاب کے دوران بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور کرناٹک میں بھی تقریباً دس لاکھ بنگلہ دیشی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ایسے افراد کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال اور بہار میں بعض سیاسی طاقتیں بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کو راشن کارڈ اور پاسپورٹ فراہم کر رہی تھیں۔

اس موقع پر رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری نے کہا کہ ’’ہندو عقیدے اور عبادت گاہوں کے خلاف مظالم کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مورین کٹے کی بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی۔
احتجاجی ریلی کا آغاز اولڈ بس اسٹینڈ سے ہوا، جو نیشنل ہائی وے سے گزرتی ہوئی منی ودھان سودھا عمارت کے باہر پہنچی۔ اس دوران سینکڑوں کارکنوں نے مورین کٹے کی دوبارہ تعمیر کے حق میں اور کانگریس حکومت نیز وزیر منکال وئیدیا کے خلاف نعرے بازی کی
اس موقع پر بھٹکل کے سابق رکنِ اسمبلی سنیل نائک، سابق وزیر شیوانند نائک، کاروار کی سابق رکنِ اسمبلی روپالی نائک، سنیل ہیگڑے، گوندا نائک، بی جے پی ضلع صدر این۔ ایس۔ ہیگڑے سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کرتے ہوئے مورین کٹے کی فوری تعمیرِ نو کا مطالبہ کیا۔ آخر میں بھٹکل میں تشریف فرما ضلع کی ڈپٹی کمشنر کے۔ لکشمی پریا کو ایک یادداشت پیش کی گئی۔