ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سعودی میں سزائے موت کا سامنا کرنے والا عبدالرحیم 20 سال بعد رہا؛ دنیا بھر کے ملیالیوں نے 34 کروڑ جمع کرکے بچائی جان

سعودی میں سزائے موت کا سامنا کرنے والا عبدالرحیم 20 سال بعد رہا؛ دنیا بھر کے ملیالیوں نے 34 کروڑ جمع کرکے بچائی جان

Sun, 31 May 2026 12:39:32    S O News

بھٹکل 31 مئی (ایس او نیوز): پڑوسی ریاست کیرالہ کے رہنے والے عبدالرحیم تقریباً 20 سال سعودی عرب کی جیل میں گزارنے کے بعد اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی رہائی اُس وقت ممکن ہوئی جب دنیا بھر میں مقیم ملیالی برادری اور مختلف رفاہی تنظیموں کی مدد سے تقریباً 34 کروڑ روپے (15 ملین سعودی ریال) بطور "بلڈ منی" یا دیت جمع کرکے مقتول کے خاندان کو ادا کیے گئے۔ 

عبدالرحیم، جو کیرالہ کے ضلع کوزی کوڈ کے رامناٹّکرہ علاقے کے رہنے والے ہیں، سن 2006 میں روزگار کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے۔ وہاں وہ ایک سعودی خاندان کے ہاں ڈرائیور اور نگہداشت کرنے والے کے طور پر کام کر رہے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق ایک حادثاتی واقعہ میں ان کے زیرِ نگرانی ایک معذور سعودی لڑکے کا لائف سپورٹ سسٹم متاثر ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد عبدالرحیم کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ 

کئی برس تک قانونی جدوجہد جاری رہی، تاہم عبدالرحیم کی قسمت اُس وقت بدلی جب مقتول کے خاندان نے بلڈ منی قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے بعد کیرالہ اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں مقیم ملیالی برادری نے ایک غیرمعمولی چندہ مہم شروع کی، جس کے ذریعے تقریباً 34 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعد سعودی عدالت نے ان کی سزائے موت منسوخ کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جولائی 2024 میں بلڈ منی کی ادائیگی قبول کیے جانے کے بعد عبدالرحیم کو پھانسی سے نجات مل گئی تھی، تاہم سعودی قانون کے تحت "پبلک رائٹس ایکٹ" کے تحت باقی سزا پوری کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ وہ جیل میں رہے اور مئی 2026 میں ان کی 20 سالہ قید کی مدت مکمل ہونے کے بعد رہائی عمل میں آئی۔ 

عبدالرحیم 28 مئی کو ریاض سے ایئر انڈیا کی پرواز کے ذریعے کیرالہ کے کالی کٹ بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے، جہاں ان کے رشتہ داروں، دوستوں اور بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی وطن واپسی عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہوئی، جس کی وجہ سے خوشی کا ماحول مزید جذباتی بن گیا۔ گھر پہنچنے پر ان کی والدہ کے ساتھ ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔ 

بھارتی سفارت خانہ ریاض نے بھی ایک بیان میں تصدیق کی کہ عبدالرحیم کو تقریباً دو دہائیوں بعد معافی ملنے کے بعد 20 مئی 2026 کو رہا کیا گیا اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات مکمل کیے گئے۔ سفارت خانے نے کہا کہ وہ مسلسل اس کیس کی پیروی کرتا رہا اور قید کے دوران ان کی قانونی اور انسانی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ 

یہ معاملہ نہ صرف سعودی عرب کے بلڈ منی (Blood Money) قانون کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے دنیا بھر میں مقیم ملیالی برادری کی اجتماعی کوششوں اور انسانی ہمدردی کی ایک غیرمعمولی داستان بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایک شخص کو تقریباً 20 سال بعد پھانسی کے سائے سے نکال کر اپنے خاندان تک واپس پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 


Share: