نئی دہلی ، 27/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر ٹرسٹ کے نذرانہ و چندہ چوری معاملے میں سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے اتر پردیش حکومت نے اپنے دلائل رکھے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے معاملے کی پیروی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ کی شفاف جانچ کے لیے دوبارہ ایس آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی پچھلی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس نئی ایس آئی ٹی کی ذمہ داری سینئر افسران کو سونپی گئی ہے۔
سالیسٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے مشورہ کے مطابق لکھنؤ رینج کے پولیس انسپکٹر جنرل کرن ایس. کو ایس آئی ٹی کا چیف بنایا گیا ہے۔ اس 3 رکنی ایس آئی ٹی میں آئی جی کرن ایس. کے علاوہ مزید 2 سینئر آئی پی ایس افسران کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ایودھیا رینج کے ڈی آئی جی سومین ورما اور ایودھیا کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو گرووَر شامل ہیں۔
اس معاملہ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مشورہ دیا کہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے ٹیم میں کسی چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ عدالت کے اس مشورہ پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اتفاق ظاہر کیا اور عدالت کو بھروسہ دلایا کہ ایس آئی ٹی میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس بارے میں عدالت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’بتایا گیا ہے کہ ریاست نے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم جاری کیا ہے۔ چونکہ جانچ میں فنڈ کی ہیرا پھیری شامل ہے، اس لیے سالیسٹر جنرل اس بات پر متفق ہیں کہ فورنسک آڈٹ کے تجربہ والے ایک آڈیٹر کو بھی ایس آئی ٹی کے رکن کی شکل میں جوڑا جائے گا۔ ہم ایس آئی ٹی کو چل رہی جانچ پر اسٹیٹس رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔‘‘
عدالت نے بتایا کہ اس وقت عدالت کی پوری توجہ رام مندر چندہ چوری معاملے کی غیر جانبدارانہ اور گہرائی کے ساتھ جانچ کرانے پر مرکوز ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں تیزی سے، معیاری، غیر جانبدار اور شفاف جانچ کرنی چاہیے۔‘‘ سماعت کے دوران عرضی دہندہ کے وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ رام مندر ٹرسٹ کو ملی سبھی رسیدوں کو علاقہ وار ویب سائٹ پر ڈالا جائے، تاکہ عام لوگوں کو اس کی پوری جانکاری حاصل ہو سکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی متضاد عرضی نہیں ہے بلکہ شفافیت کے لیے لازمی ہے۔ اس کے جواب میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عرضی دہندہ کے مشورہ کی مخالفت کی اور کہا کہ اس نازک معاملے کو بلا مطلب سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔