ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گجرات تبدیلیٔ مذہب کیس: 3 سال سے قید عالم دین کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملی

گجرات تبدیلیٔ مذہب کیس: 3 سال سے قید عالم دین کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملی

Wed, 19 Feb 2025 16:54:03    S O News

نئی دہلی    ، 19/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )گجرات تبدیلیٔ مذہب معاملے میں گزشتہ 3 سالوں سے قید عالم دین مولانا ساجد بھائی پٹیل کو سپریم کورٹ سے 17 فروری کو ضمانت مل گئی۔ عدالت عظمیٰ کی دو رکنی بنچ نے طویل حراست اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے مشروط ضمانت کا حکم دیا۔ تاہم، سرکاری وکیل نے عدالت میں ملزم کو ضمانت دینے کی سخت مخالفت کی، لیکن عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد رہائی کا فیصلہ صادر کر دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی قانونی امداد کمیٹی نے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر ملزم ساجد پٹیل کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں پیروی کی۔ سپریم کورٹ کی 2 رکنی بنچ، جس میں جسٹس سنجے کول اور جسٹس احسان الدین امان اللہ نے ملزم کے دفاع میں سینئر ایڈووکیٹ نتیا رام کرشنن کی دلیلوں کو سننے کے بعد ملزم کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈووکیٹ نتیا رام کرشنن نے عدالت کو مطلع کیا کہ ملزم گزشتہ 3 سالوں سے جیل کی مشکلات برداشت کر رہا ہے، اور اس معاملے میں نامزد بیشتر ملزمین کو ضمانت مل چکی ہے۔ اس لیے برابری کی بنیاد پر اور فریق استغاثہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کے مدنظر ملزم کو بھی ضمانت دی جانی چاہیے۔ سینئر ایڈووکیٹ نے یہ بھی بتایا کہ ملزم پر جبراً مذہب تبدیلی کرانے کے الزام میں وڈودرا اور بھروچ میں معاملے درج کیے گئے تھے، جن میں سے وڈودرا معاملے میں ملزم کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ چونکہ بھروچ معاملے میں ملزم بھی یکساں روش کے ہیں، اس لیے ملزم کو ضمانت دی جانی چاہیے۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل رجت نایر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اس معاملے کا کلیدی گنہگار ہے، جس پر ’بیت المال‘ کی رقم کا غلط استعمال کر کے سماج کے کمزور طبقات کے غریب لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کا مذہب تبدیل کرانے کا سنگین الزام ہے۔ سرکاری وکیل نے یہ بھی کہا کہ ملزم نے نہ صرف پیسوں کا لالچ دیا، بلکہ ڈرایا اور دھمکایا بھی۔ اس وجہ سے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سرکاری کے ساتھ ساتھ شکایت دہندہ پروین بھائی وسنت بھائی کے وکیل نے بھی ساجد بھائی پٹیل کی ضمانت کی مخالفت کی، لیکن عدالت نے سینئر ایڈووکیٹ نتیا رام کرشنن کی دلیلوں سے متفق ہوتے ہوئے ساجد پٹیل کو مشروط ضمانت دینے کا حکم صادر کیا۔

واضح رہے کہ گجرات کے بھروچ ضلع کے امود نامی علاقہ میں جبراً مذہب تبدیلی کی شکایت ملنے پر امود پولیس اسٹیشن نے 15 افراد کے خلاف ’گجرات فریڈم آف رلیجن ایکٹ 2003‘ کی دفعات 4، 5، 4جی، تعزیرات ہند کی دفعات 120 بی، 153 بی سی، (2)506، 15، 13 اے(1)، 295 سی، 466، 468، 471، درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل انسداد ظلم ایکٹ کی دفعہ (2)3، 5 اے، (5)(2)3 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 84 سی کے تحت معاملہ درج کیا تھا اور ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔


Share: