ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یو اے پی اے اور اس جیسے مقدمات کی فوری سماعت کو یقینی بنانے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو دی ہدایات

یو اے پی اے اور اس جیسے مقدمات کی فوری سماعت کو یقینی بنانے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو دی ہدایات

Fri, 12 Dec 2025 01:02:12    S O News

نئی دہلی 11/ڈسمبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے جمعرات کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ریاستوں میں UAPA اور اسی طرح کے قوانین کے تحت زیر التوا مقدمات کا جائزہ لیں اور ان کی فوری سماعت کے لیے اقدامات کریں۔

یہ حکم جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ بینچ یہ فیصلہ اس اپیل کی سماعت کے دوران سن رہا تھا جو سی بی آئی نے 2010 میں مغربی مدناپور (مغربی بنگال) میں جنانیشوری ایکسپریس کے حادثے کے ملزمین کو دی گئی ضمانت کے خلاف دائر کی تھی۔

عدالت نے کہا کہ کسی جمہوریت کا اصل معیار اس بات سے نہیں پرکھا جاتا کہ وہ بے قصور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے، بلکہ اس سے کہ وہ اُن افراد کے حقوق کی کیسے حفاظت کرتی ہے جن پر صرف شبہ کیا جاتا ہے۔ ایسے قوانین میں جہاں ملزم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ذمہ داری ہو، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ملزم کو محض شبہ کے بوجھ تلے نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے سچ اور انصاف تک پہنچنے کے لیے مناسب مدد اور مواقع دیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو ہدایت دی کہ وہ ایسے مقدمات کی تعداد دیکھیں، جانچیں کہ ان کے لیے کافی خصوصی عدالتیں موجود ہیں یا نہیں، اگر نہیں ہیں تو موجودہ سیشن عدالتیں اس کام کے لیے کافی ہیں یا نہیں، اورضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کے ساتھ مسئلہ اٹھائیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ججوں اور عملے کی کمی یا انتظامی رکاوٹیں مقدمات میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں، اس لیے ان کا جائزہ لیا جائے اور مسائل حل کیے جائیں۔ ٹرائل عدالتیں اپنی رپورٹس جمع کرائیں اور بتائیں کہ مقدمہ کئی سال تک کیوں زیر التوا رہا۔

سپریم کورٹ نے مزید حکم دیا کہ ایسے مقدمات کی روزانہ سماعت ہو اور ملتوی صرف بہت ضروری حالات میں کی جائے۔ ہر چار ہفتے بعد ہائی کورٹ کے انتظامی جج ٹرائل ججوں سے رپورٹس حاصل کریں گے تاکہ ہدایات پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت نے کہا کہ UAPA جیسے قوانین میں تاخیر ملزمان کی مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ مقدمات برسوں تک چلنے، عدالتوں پر بوجھ بڑھنے، استغاثہ کی سستی، وکلاء کی بار بار تاریخیں لینے کی وجہ سے ملزم کی آزادی فائلوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے زور دیا کہ انصاف کے ادارے انصاف کے عمل کو منصفانہ بنائیں، ملزم کو وکیل تک رسائی دیں اور مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے شبہ کو مستقل سزا میں نہ بدلنے دیں۔


Share: