بنگلورو ، 8/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین یو نثار احمد ، شمالی کرناٹک کے مختلف اضلاع کا تفصیلی دورہ کریں گے، جس کے دوران اقلیتی فلاح و بہبود سے متعلق حکومتی منصوبوں کے نفاذ، وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام اور دیگر ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے باضابطہ دورہ پروگرام جاری کیا گیا ہے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق چیئرمین جناب نثار احمد 6 اپریل 2026 کو ریاستی دارالحکومت بنگلورو سے اپنے دورے کا آغاز کریں گے۔ اس دوران وہ مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کریں گے اور اقلیتی برادری کے لیے جاری فلاحی اسکیموں کے نفاذ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
پروگرام کے مطابق چیئرمین 6 اپریل کو وجئے پورہ پہنچیں گے جہاں وہ ضلعی سطح پر اقلیتی فلاحی اسکیموں، تعلیمی سہولتوں اور ترقیاتی پروگراموں کا جائزہ لیں گے۔ اس موقع پر ضلعی افسران کے ساتھ اجلاس منعقد ہوگا جس میں وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام پر عمل آوری کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
علاوہ ازیں اقلیتی آبادیوں میں موجود آنگن واڑی مراکز اور اردو اسکولوں کا معاینہ کیا جائے گا ،اسی طرح 7 اپریل کو باگل کوٹ ضلع کا دورہ کیا جائے گا جہاں اقلیتی اداروں، تعلیمی مراکز اور فلاحی اسکیموں کے نفاذ کا معائنہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد 8 اپریل کو گدگ ضلع میں جائزہ اجلاس منعقد ہوگا، جہاں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کر کے اقلیتی طلبہ کی تعلیمی سہولتوں، اسکالرشپ منصوبوں اور دیگر فلاحی پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ 9 اپریل کو کوپل ضلع کا دورہ کیا جائے گا جہاں اقلیتی برادری کو فراہم کی جانے والی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پھر بنگلورو واپسی ہوجائے گی ، بعدازاں 15 اپریل کو بلگاوی ،16 اپریل کو دھارواڑ ،17 اور 18 اپریل کو ہاویری، اضلاع کا دورہ کیا جائے گا ۔ پروگرام کے مطابق چیئرمین مختلف اضلاع میں اقلیتی تعلیمی اداروں، مدارس، ہاسٹلوں اور فلاحی مراکز کا بھی دورہ کریں گے۔ ان دوروں کے دوران مقامی عوامی نمائندوں، سماجی رہنماؤں اور افسران کے ساتھ ملاقات کر کے اقلیتی برادری کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
ریاستی اقلیتی کمیشن کے ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد اقلیتی فلاحی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا، سرکاری پروگراموں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینا اور اقلیتی برادری کو فراہم کی جانے والی سہولتوں میں بہتری لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہے۔