بنگلورو ، 8/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ ریاستی بجٹ برائے 2026-27 میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مالی نظم و ضبط کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بنگلورو میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ ’’کرشنا‘‘ میں بجٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو واجب فنڈز فراہم کرنے میں عدم تعاون اور سوتیلا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جی ایس ٹی نظام کے نفاذ کے بعد ریاست کی ٹیکس وصولی کی شرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں جی ایس ٹی نافذ کیا گیا اور آٹھ برس بعد ٹیکس شرحوں میں تبدیلی کی گئی، جس کے نتیجے میں ریاست کی ٹیکس وصولی کی شرح جو پہلے تقریباً دس فیصد تھی، اب کم ہو کر چار فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے سبب ریاست کو اس سال تقریباً دس ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور آئندہ سال یہ نقصان بڑھ کر پندرہ ہزار کروڑ روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ اس کے باوجود ریاست کی معاشی ترقی ملک کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ ان کے مطابق 2025-26 میں کرناٹک کی ریاستی مجموعی پیداوار کی شرح نمو 8.1 فیصد رہی، جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 7.4 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی ضمانتی اسکیموں کے لیے باون ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں اور اب تک ان اسکیموں پر ایک لاکھ اکیس ہزار پانچ سو اکیانوے کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت مجموعی منصوبہ لاگت 69,488 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 30,880 کروڑ روپے ہونا چاہیے تھا، لیکن اب تک مرکز کی جانب سے صرف 11,786 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس ریاستی حکومت نے اپنے حصے کے علاوہ اضافی فنڈز بھی خرچ کیے ہیں تاکہ منصوبے کو جاری رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں ملک کا مجموعی قرضہ غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق 2014 سے پہلے ملک کا قرضہ تقریباً 53 لاکھ کروڑ روپے تھا جو اب بڑھ کر 165 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرض لیے بغیر کسی بھی ریاست یا ملک کی ترقی ممکن نہیں، تاہم مالی نظم و ضبط کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے قرض لینا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کی نئی قانون سازی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث ریاستوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت مرکزی حکومت 60 فیصد اور ریاستوں کو 40 فیصد حصہ دینا ہوگا، جس کے نتیجے میں کرناٹک پر تقریباً تین ہزار کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیہی روزگار کی سابقہ اسکیم کو بحال کیا جائے تاکہ غریب اور مزدور طبقے کو فائدہ پہنچ سکے۔
سدارامیا نے اعلان کیا کہ ریاست میں سرکاری محکموں کی خالی اسامیوں کو مرحلہ وار پُر کیا جائے گا اور اس سال 56,432 عہدوں پر تقرریاں کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ بھرتیوں میں تاخیر کے باعث امیدواروں کو عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت بھی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ماہرین کی سفارشات کو منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے رواں سال 4,291 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ کلیان کرناٹک علاقائی ترقیاتی بورڈ کے تحت آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے پانچ ہزار کروڑ روپے کی اسکیم نافذ کی جائے گی، جبکہ جاری منصوبوں پر پہلے ہی چار ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کرشنا بالائی نہری منصوبہ کے تیسرے مرحلے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم کی اونچائی میں اضافے کے باعث زیر آب آنے والی زمینوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ اس کے تحت بنجر زمین کے لیے تیس لاکھ روپے فی ایکڑ اور آبپاشی والی زمین کے لیے چالیس لاکھ روپے فی ایکڑ معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور یہ عمل چار برسوں میں مکمل کیا جائے گا۔
سدارامیا نے کہا کہ تونگ بھدرا آبی ذخیرے کے تمام دروازے خستہ حال ہو چکے ہیں اور انہیں جون تک تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ابتدا سے ہی مالی نظم و ضبط پر عمل کر رہی ہے۔ اگر مرکزی حکومت ریاست کو اس کا واجب حصہ فراہم کرتی تو بجٹ میں کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہوتی۔
پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، معاشی مشیر بسواراج رائریڈی، قانونی مشیر اے ایس پونّنّا، وزراء بیرتی سریش اور ڈاکٹر ایم سی سدھاکر کے علاوہ محکمۂ مالیات کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔