بنگلورو، 10 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو بنگلور میں چنّاسوامی اسٹیڈیم کے باہر پیش آئے افسوسناک بھگدڑ سانحہ کے تناظر میں کانگریس ہائی کمان کی جانب سے دہلی طلب کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سدارامیا منگل کو دہلی پہنچ کر پارٹی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی اور تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال سے ملاقات کریں گے اور اس دوران سانحہ سے متعلق تمام تفصیلات، حکومتی اقدامات، حفاظتی انتظامات میں کوتاہی اور اپوزیشن کے الزامات کا تفصیلی جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ آر سی بی کی جیت کے جشن کے موقع پر اسٹیڈیم کے باہر عوامی ہجوم میں بدنظمی کے باعث بھگدڑ مچ گئی تھی، جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ نے ریاست گیر سطح پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص کر بی جے پی نے حکومت کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اس حادثہ کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے اور عدالتی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا ہے، جب کہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ بھی دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہلی طلبی کا مقصد صرف سانحہ پر وضاحت تک محدود نہیں بلکہ کانگریس ہائی کمان ریاستی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل، کونسل کی خالی نشستوں پر ناموں کی منظوری، اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزراء کے معاملات پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی میں تنظیمی تبدیلیوں کی بھی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس قیادت سدارامیا کی کارکردگی، عوامی ردعمل اور نظم و نسق کے انتظامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر قیادت کو اطمینان نہ ہوا تو کچھ وزراء کی برطرفی یا محکموں میں بڑی تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔ یہ اقدامات ریاست میں عوامی اعتماد بحال کرنے اور آئندہ بلدیاتی و ضمنی انتخابات کی تیاری کے تحت کیے جا سکتے ہیں۔
قومی سطح پر بھی کانگریس کو بھگدڑ جیسے سانحے سے شدید سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ بی جے پی مسلسل اس معاملے کو لے کر مرکزی سطح پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ سدارامیا دہلی میں اپنی ملاقاتوں کے بعد منگل کو ہی بنگلور واپس لوٹیں گے اور ممکن ہے کہ وہ کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کریں، جس میں پارٹی ہائی کمان کے فیصلوں کی روشنی میں اہم اعلانات اور رد و بدل کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
سدارامیا کی دہلی طلبی، بھگدڑ سانحہ پر وضاحت، کابینہ میں ردوبدل کا امکان، سدارامیا کی دہلی طلبی بھگدڑ سانحہ پر وضاحت اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی گونج
بنگلورو، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) چنّاسوامی اسٹیڈیم کے باہر پیش آئے ہولناک بھگدڑ واقعے کے بعد کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو کانگریس ہائی کمان کی جانب سے دہلی طلب کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سدارامیا منگل کے روز دہلی پہنچ کر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی اور تنظیمی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال سے ملاقات کریں گے۔ وہ اس ملاقات کے دوران بھگدڑ واقعے سے جُڑے تمام حالات و واقعات، انتظامی اقدامات، حفاظتی انتظامات کی ناکامی اور اپوزیشن کی تنقید پر تفصیلی وضاحت پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں بنگلور میں آر سی بی کی فتح کے موقع پر منعقدہ عوامی جشن میں ناقص انتظامات اور بے ہنگم بھیڑ کے سبب بھگدڑ مچ گئی تھی، جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ریاست گیر سطح پر حکومت کی سخت نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔
بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ریاستی حکومت پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
سدارامیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپوزیشن محض سیاسی فائدے کے لیے اس سانحے کو اچھال رہی ہے۔ حکومت نے فوری طور پر پانچ پولیس افسران کو معطل کر کے عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دے رہی ہے اور سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جا رہی ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق صرف سانحہ پر وضاحت ہی نہیں بلکہ کانگریس قیادت ریاستی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل، کونسل کی خالی نشستوں پر ناموں کی منظوری اور کچھ وزراء پر لگے بدعنوانی کے الزامات پر بھی غور کر رہی ہے۔ ریاستی کانگریس یونٹ میں تنظیمی تبدیلیوں کی بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں، جن میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت میں تبدیلی بھی زیر غور ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ہائی کمان سدارامیا کی کارکردگی، عوامی ردعمل اور انتظامی صلاحیتوں کا تجزیہ کر رہی ہے۔ اگر دہلی میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اعلیٰ قیادت مطمئن نہ ہوئی تو ریاستی سطح پر اہم سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں، جن میں کچھ وزراء کی برطرفی یا محکموں کی ردوبدل بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ تمام اقدامات عوامی اعتماد کی بحالی اور آئندہ بلدیاتی و ضمنی انتخابات کی تیاری کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کی مشکل یہ ہے کہ بھگدڑ جیسے سانحے نے قومی سطح پر کانگریس کی شبیہ کو دھچکہ پہنچایا ہے۔ مرکز میں بی جے پی اس مسئلے کو لے کر مسلسل کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
متوقع ہے کہ سدارامیا دہلی میں قیادت کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کے بعد منگل کو ہی بنگلور واپس لوٹیں گے، جہاں وہ کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔ پارٹی قیادت کے فیصلوں کی روشنی میں ممکنہ طور پر اہم اعلانات اور ردوبدل کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔