ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سونیا گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ، طلبہ کا احتجاج حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار

سونیا گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ، طلبہ کا احتجاج حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار

Sat, 25 Jul 2026 11:36:10    S O News

نئی دہلی ، 25/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت پر تعلیمی نظام کو تباہ کردینے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طلبہ صرف جوابدہی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مطالبات پورے کرنے کی جگہ ایسا سلوک کر رہے ہیں جیسے یہ طلبا ملک کے دشمن ہیں۔ کانگریس لیڈر نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ طلبا کے ساتھ کھڑے ہوں۔

سونیا گاندھی نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون بعنوان :’تعلیمی نظام کا زوال، نوجوان ہندوستان کیلئے اذیت‘ میں دیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملک کے طلبا تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان کی جرأت کا جواب ’بزدلی اور بلاوجہ کی بربریت‘ سے دیا ہے۔

سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت طلبا کو ملک کا مستقبل سمجھنے کے بجائے ان کے ساتھ ملک کے دشمنوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبا نے حکومت کے تعلیمی نظام سے متعلق دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ وہ اپنے مضمون میں یہ بھی لکھتی ہیں کہ آج کا تعلیمی نظام نوجوانوں کو امید نہیں بلکہ مایوسی دے رہا ہے۔ طلبا کی تحریک۲؍وجوہات کا نتیجہ ہے۔ پہلی… ایسا تعلیمی نظام جس نے نوجوانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے، اور دوسری… مودی حکومت کا تکبر، جو جوابدہی طے کرنے اور اصلاحی اقدامات کرنے سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت طلبا کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہر سیاسی پارٹیوں اور معاشرے کی اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے۔

سونیا گاندھی نے طلبا مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے دائرۂ اختیار میں کام کرنے والی پولیس نے طلبا کے ساتھ بربریت کی ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے ۲۰۲۰ء کے سی اے اے-این آر سی مخالف احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھی یونیورسٹی کیمپسوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کارروائی کی تھی۔ انہوں نے خواتین پہلوانوں کی تحریک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی ملک نہیں بھولا ہے۔


Share: