ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جوہر یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر طلبہ کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری

جوہر یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر طلبہ کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری

Tue, 21 Jul 2026 11:23:27    S O News

نئی دہلی، 21/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) تعلیمی ادارے بنانے کے بجائے اسے گرانے پر آمادہ اترپردیش کی یوگی حکومت کی ظالمانہ کارروائی کے خلاف چوطر فہ احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ رام پور سے ہوتے ہوئے لکھنؤ ، سنبھل اور دیگر علاقوں میں پہنچ گیا ہے۔ایک دن قبل اس تعلق سے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے طلبہ اور ان کے والدین کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے ان کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا ہے۔

رام پور واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی۳۸؍ عمارتیں منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی کے خلاف طلباء و طالبات کا غیر معینہ مدت کا دھرنا پیر کو تیسرے دن بھی جاری رہا۔ بارش اور خراب موسم کے باوجود طلبہ یونیورسٹی کے صدر دروازے پر ڈٹے رہے اور اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کرتے رہے۔ دھرنے پر بیٹھے طلبہ نے الزام لگایا کہ۳؍ دن گزر جانے کے باوجود کوئی بھی انتظامی افسر اُن کی خبر لینے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو کسی افسر نے ان سے بات چیت کی، نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک ان کی بات نہیں سنی جاتی، وہ  اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔دھرنے پر بیٹھے ایک طالب علم محمد یوسف نے کہا کہ ’’اگر حکومت کو اس یونیورسٹی سے کوئی دِقت ہے تو اس کے برابر اس سے بھی بڑی یونیورسٹی بنا کر دکھائے۔ تعلیم کے مندر کو گرانا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ آخر آئین میں کہاں لکھا ہے کہ بچوں کا مستقبل برباد کر دیا جائے اور ان کے ہاتھوں سے قلم چھین لیا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ سرکاری انتظامیہ نے اس یونیورسٹی کی۴۰؍ میں سے۳۸؍ عمارتوں کو نقشے کے خلاف تعمیر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہدام کے احکامات جاری کئے ہیں۔ انتظامیہ نے۱۵؍ دنوں کے اندر ان تمام عمارتوںکو خود ہی منہدم کرنے کا حکم دیا  ہے، بصورت دیگر ضابطے کی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ۱۵؍ دن کے بعد ان عمارتوں کو بلڈوزر سے منہدم کردیا جائے گا۔

اس کارروائی کے خلاف پیر کو لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان بھی سڑکوں پر اُترے  جہاں پولیس سے ان کا تصادم ہوا۔پولیس نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں احتجاج سے روکنے کی پوری کوشش کی۔اسی طرح یوپی کے شہرسنبھل میں، عام آدمی پارٹی نے بھی جوہر یونیورسٹی پر کریک ڈاؤن کے خلاف پیر کو سہ پہر۳؍ بجے پیدل مارچ کا اہتمام کیا۔  یہ مارچ پارٹی کے ریاستی ترجمان اطہر حسین کی قیادت میں شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل پیپر لیک ہونے، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیمی نظام کو نظر انداز کرنے سے متاثر ہو رہا ہے۔ دریں اثنا سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے’ ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ’’غیرملکی لٹیروں نے مندر توڑے تھے، تعلیمی ادارے توڑے تھے اور تحریک چلانے والوں کو ہراساں کیا تھا... آج یہی کام بی جے پی کررہی ہے۔ بی جے پی میں بہت زیادہ ’اہنکار‘ ہے۔‘‘  

واضح رہے کہ اکھلیش یادو نے جوہر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کے نام  ایک دن قبل ایک کھلا خط بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔  اس خط میں انہوں نے ملک بھر کے عوام سے یونیورسٹی کو بچانے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ اس مہم میں پوری طرح ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت سیاسی انتقام کی بنیاد پر جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنا رہی ہے اور اسے اپنی تنگ نظر سیاست کا شکار بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ جوہر یونیورسٹی ’تعلیم کا ایک مندر‘ ہے  جسے بچانا ہر اُس شخص کی ذمہ داری ہے جو تعلیم اور نوجوانوں کے مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دستاویز میں کوئی کمی ہے تو اسے دور کیا جانا چاہئے، نہ کہ یونیورسٹی کو مسمار کر کے طلبہ کے خواب کو چکنا چور کیا جائے۔


Share: