شیموگہ، 7/فروری (ایس او نیوز /پریس ریلیز) اردو زبان و ادب بالخصوص نعتیہ شاعری کے فکری، فنی اور روحانی پہلوؤں پر سیر حاصل مذاکرے کے لیے کوئمپو یونیورسٹی شیموگہ کے شعبہ اردو اور سہادری آرٹس کالج کے اشتراک سے ایک روزہ ریاستی اردو سمینار، رسمِ اجرا اور نعتیہ مشاعرہ نہایت وقار اور علمی شان کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس سمینار کا موضوع ''نثر سے نعت تک: ایس ایم عقیل رکھا گیا'' جس میں ریاست کے مختلف اضلاع سے اساتذۂ جامعات، محققین، ادبا، شعراء اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت مسٹر اے ایل منجوناتھ، رجسٹرار کوئمپو یونیورسٹی شیموگہ نے کی۔ صدارتی خطاب میں انہوں نے اردو زبان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو سے ان کا رشتہ محض رسمی نہیں بلکہ قلبی وابستگی کا ہے، اسی لیے وہ اردو طلبہ کے ہر پروگرام میں پابندی کے ساتھ شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ کی سرگرمیوں کو دیکھ کر انہیں دلی مسرت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے دورانِ خطاب نعت کے متعدد اشعار بھی سنائے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ مسٹر منجوناتھ نے یقین دلایا کہ شعبہ اردو کی ہمہ جہت ترقی کے لیے وہ ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
معروف شاعر اطفال ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی نے نعتیہ مجموعہ ندائے رحمت کی رسمِ اجراء انجام دی۔اور اپنے مختصرمگرجامع خطاب میں کہا کہ آج کی یہ محفل اردو زبان و ادب کے ایک کامیاب استاد، معتبر ناقد و محقق اور صاحبِ طرز شاعر حضرت شاہ مدار عقیل کے نعتیہ مجموعے کی اجرائی تقریب کے طفیل نعتیہ شاعری پر سنجیدہ گفتگو کا خوب صورت موقع فراہم کر رہی ہے۔ پروفیسر عقیل صاحب ایک صاحب کردار فنکار ہیں، وہ اہل فن اور اہل علم کے سچے پرستار ہیں۔ زبان و ادب کے خادم اور سردار ہیں۔ ان کے دم قدم سے شیموگہ کا ماحول پر بہار ہے۔ انہیں تنقید سے شغف ہے تو شاعری سے پیار ہے۔ عشق نبی سے وہ سرشار ہیں۔ ان کی نعتوں میں عقیدت مندی کا سنسار ہے۔ سیرت نبوی کی خوشبو کی بہار ہے۔ وہ فرقت یثرب و مدینہ میں سراپا بے قرارہیں۔ ان کے اشعار اور مصرعے ان کے درد سے اشکبار ہیں۔ یہ ایسی نعتیں ہیں جن سے حب رسول کی سانسیں مشکبار ہیں۔ یہ نعتیں ان کے دل کی قاشیں اور ان کے جذبوں کا اظہار ہیں۔ اتنی خوب صورت نعتوں کا یہ مجموعہ نہ صرف روح کی غذا ہے بلکہ ایمان کا شعار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نعتیں ان کے لیے توشہ آخرت بنیں گی۔ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گی۔ اہل دل کے اضطراب کو قرار بخشیں گی۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ان کی اس محنت کو قبول فرمائے۔ ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔ دوسروں کے لیے مشعل راہ بنائے۔
سمینار کے کلیدی خطبے میں پروفیسر حمید اکبر نے نعتیہ ادب کے مختلف فنی و فکری نکات پر مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ نعت گوئی نہایت نازک اور کٹھن صنفِ سخن ہے، جس میں حد درجہ احتیاط اور شعوری ذمہ داری درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے احادیثِ مبارکہ کے تراجم اور حوالہ جات پیش کرتے ہوئے حضرت حسان بن ثابت کی نعتیہ شاعری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس کے ساتھ ہی کرناٹک کے شعرائے نعت کے منتخب اشعار سنائے اور حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز کی سوانح و ادبی خدمات کا بھی تذکرہ کیا۔
روزنامہ آج کا انقلاب شیموگہ کے ایڈیٹر جناب مدثر احمد نے بطور مبصر اپنی آرا پیش کرتے ہوئے سمینار کے علمی معیار اور موضوع کی معنویت کو سراہا۔ سنڈیکیٹ ممبر جناب مصور باشاہ نے شعبہ اردو میں خالی اسامیوں کو جلد پر کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شعبہ اردو بھرپور ترقی کرے اور اس مقصد کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
پروگرام کی نظامت محترمہ شبینہ طلعت نے نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ انجام دی۔ اختتام پر پروفیسر عاقل شاہ مدار نے کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی، مقالہ نگاروں، شعرا اور دور دراز سے تشریف لانے والے تمام شرکا کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
سمینار میں ڈاکٹر داؤد محسن، قمرالدین قمر، ڈاکٹر شکیلہ گوری خان، ڈاکٹر شبینہ طلعت، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، ڈاکٹر منظور نعمان، ڈاکٹر یاسین راہی، ڈاکٹر منظور دکنی، رابعہ بیگم، ڈاکٹر اسما کوثر، ثریا بیگم اور ڈاکٹر نازنین نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ نعتیہ مشاعرے میں جن شعراء نے اپنی پرسوز اور عقیدت بھری نعتوں سے سامعین کے دلوں کو گرمایا ان میں ڈاکٹر ایس ایم عقیل، ڈاکٹر داؤد محسن، قمرالدین قمر، منیر دل، جلال محمودی، علیم اللہ علیم، عظمت اللہ عظمت، نصرت رحیم، سراج زیبائی، ڈاکٹر منظور نعمان، ڈاکٹر آفاق عالم، ڈاکٹر ریاض محمود، سید ظہیر احمد فنا، عابد اللہ اطہر، ڈاکٹر سیدہ نازنین ناز، فاروق شمس اور ارقم مظہری کے اسماء خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔