کاروار ، 4 / اگست (ایس او نیوز) سماجی و معاشرتی ماحول کے بدلتے ہوئے حالات اور منظر نامے میں ریاست کرناٹکا کے اندر کم عمر بچیوں کے حاملہ ہونے اور گھروں سے لاپتہ ہونے والی خواتین غیر معمولی انداز میں بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے جو سرکاری اعداد و شمار جاری ہوئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں ۔ اس رپورٹ کا جائزہ لینے پر اس کا اثر دوسرے اضلاع کی طرح ضلع اتر کنڑا میں دکھائی دے رہا ہے ۔
ریاستی سطح کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2021-22 سے 2023-24 تک کم عمر بچیوں کے حاملہ ہونے جو معاملے درج ہوئے ہیں ان کی تعداد 33,621 ہے ۔ اسی طرح گزشتہ تین سالوں میں ریاستی سطح پر درج ہونے والے خواتین اور لڑکیوں کی گم شدگی کے معاملوں کی تعداد 2719 ہے ۔ جبکہ ایسے معاملے بھی کم نہیں ہونگے ظاہر نہ کیے گئے ہونگے اور نہ ہی ان کا اندراج کیا گیا ہوگا ۔
جدید زمانے کے تقاضوں کے تحت سماجی اور خاندانی تانے بانے میں آنے والی تبدیلیاں، شخصی و انفرادی آزادی کی بے لگام لہر، سوشیل میڈیا تک آسان رسائی، انٹرنیٹ کا غلط استعمال اور اخلاقی پابندیوں سے بغاوت، رومانس اور عشق کے سنہرے مگر فریبی جال کو کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال، اور حمل برداری کا اہم سبب سمجھا جاتا ہے ۔
سرکاری طور پر جاری کردہ اس رپورٹ کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ چودہ اور پندرہ سال کی بچیوں کے ساتھ آٹھ اور نو سال کی بالکل ہی کم عمر بچیوں کے حاملہ ہونے کے معاملے میں اجاگر کیے گئے ہیں ۔
اتر کنڑا ضلع کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں 2021-22 کے دوران ایک سال کے عرصے میں کم عمر بچیوں کے حاملہ ہونے کے 11,792 معاملے درج ہوئے تھے ۔ جبکہ 2023-24 کے دوران میں یہ تعداد 13,198 کو پہنچ گئی ۔ البتہ 2023-24 میں کم عمر بچیوں کے حاملہ ہونے کی تعداد گھٹ کر8,631 تک آ گئی ۔