کاروار 31 / جولائی (ایس او نیوز) ضلع پنچایت ہال میں محکمہ صحت کی جائزاتی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیر صحت و خاندانی بہبود دنیش گنڈو راو نے بتایا کہ کاروار کے ضلع اسپتال کو کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں شامل کیے جانے کی وجہ سے اب سرسی میں موجود سرکاری اسپتال کو ترقی دیتے ہوئے اسے ضلع اسپتال میں تبدیل کیا جائے گا ۔ اس کے لئے ضروری ایم آر آئی ، سی ٹی اسکیان جیسے مشینوں کے علاوہ دیگر ساز و سامان اور اسٹاف مہیا کرنے کے لئے تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ اس کے علاوہ ضلع میں ماں اور بچے کی صحت کے تعلق سے پوری طرح چوکسی برتنے اور مردہ بچوں کی پیدائش کی شرح کم کرنے کی سمت میں اقدامات کرنا چاہیے ۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ضلع کے تمام تعلقہ اسپتالوں میں دو زچگی کے ماہر، دو بےہوشی کے ماہر اور دو بچوں کے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات 24x7 دستیاب رہنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے اقدام کیا جائے ۔ جس اسپتال میں زچگی کی شرح کم ہے وہاں کے ڈاکٹروں کو فوری ضرورت پوری کرنے کے لئے تعلقہ اسپتال میں تعینات کرتے ہوئے عوام کو سہولت فراہم کی جائے ۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ فی الحال کام کر رہے تین کمیونٹی سینٹرز کے ساتھ نئے تعمیر ہو رہے پانچ کمیونٹی سینٹرز میں عملے کی تعیناتی اور ساز و سامان فراہم کرنے کی منظور فائنانس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے مل گئی ہے ۔ گھر پر علاج فراہم کرنے کی اسکیم پر فوری عمل پیرائی کی ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع کے ہر ایک گھر پر پہنچ کر بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ کی جانچ کرنی ہوگی اور اس قسم کی بیماریوں کی نشاندہی ہونے پر متاثرہ افراد کے لئے ضروی دوائیں فراہم کرنا ہوگا ۔ ڈاکٹروں اور آشا کارکنوں کی طرف سے حاملہ عورتوں اور زچگی والی خواتین کی مسلسل جانچ اور نگرانی جاری رہنی چاہیے ۔
انہوں نے بتایا کہ 'مستقل بینائی' گارنٹی اسکیم کے تحت 398 آشا کرن مراکز قائم کیے گئے ہیں ۔ اتر کنڑا میں 14 ایسے مراکز چل رہے ہیں ۔ ان مراکز میں آنکھوں کی جانچ کے علاوہ بینائی کے لئے چشموں کی فراہمی اور سرجری جیسی سہولتیں مفت میں فراہم کی جاتی ہیں ۔ افسران کی طرف سے عوام کو اس بارے میں آگاہی دینی چاہیے ۔
دنیش گنڈو راو نے بتایا کہ ضلع اتر کنڑا میں 52 گرام پنچایت علاقے ٹی بی کے مرض سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ پورے ضلع کو ٹی بی سے آزاد ضلع قرار دینے کے لئے کوشش کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر پونیت راجکمار 'ہردئے جیوتی' اسکیم تمام تعلقہ اسپتالوں میں لاگو کی جائے گی ۔
وزیر موصوف نے کہا کہ سرکاری طور پر افسران کی ڈیوٹی حاضری کے نظام کو ریاست بھر میں لازمی کر دیا گیا ہے ۔ اس لئے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے عملے کو اپنے موبائل سے ہی حاضری لگانی ہے ۔ اس سے حاضری کا وقت اور لوکیشن معلوم ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر یا عملہ اسپتال میں موجود نہ ہونے کی شکایت کے تعلق سے ضروری معلومات مل جاتی ہے ۔
اس موقع پر ضلع ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، ضلع پنچایت سی ای او ڈاکٹر دلیپ ششی اور دوسرے افسران موجود تھے ۔