ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایل پی جی قیمتوں میں اضافے پر سدارامیا کی مرکز پر تنقید، عوام پر بوجھ بڑھنے کا الزام

ایل پی جی قیمتوں میں اضافے پر سدارامیا کی مرکز پر تنقید، عوام پر بوجھ بڑھنے کا الزام

Sun, 08 Mar 2026 14:21:32    S O News

بنگلورو ، 8 /مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)   وزیر اعلیٰ سدارامیا نے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں حالیہ اضافے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں سے پہلے ہی پریشان غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر یہ فیصلہ مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گھریلو استعمال کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے کا اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے خاندان پہلے ہی مہنگائی سے شدید متاثر ہیں۔ ان کے مطابق اس اضافے سے عام لوگوں کے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

سدارامیا نے الزام لگایا کہ یہ اضافہ ناگزیر اقتصادی اقدام نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے مؤقف کے سامنے جھک کر بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کیا ہے اور روس اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ طویل مدتی توانائی تعاون کو متاثر کیا ہے، جو کئی دہائیوں سے بھارت کو توانائی کے شعبے میں استحکام فراہم کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی دراصل اقتصادی پالیسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سدارامیا کے مطابق جب سفارت کاری حکمت عملی کے بجائے محض دکھاوے کا ذریعہ بن جائے تو اس کا خمیازہ بالآخر غریب اور متوسط طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے اپنی حالیہ کتاب میں بھارت کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں ادارہ جاتی مشاورت اور اسٹریٹجک سوچ کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے، جو موجودہ پالیسی کے حوالے سے سوالات کو مزید تقویت دیتا ہے۔

سدارامیا نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کی سفارتی پالیسی کی ناکامی کی قیمت کروڑوں بھارتی شہری کیوں ادا کریں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اس معاملے پر وضاحت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے تو حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔


Share: