ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مودی نے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا: سدارامیا — امریکی ٹیرف پر راہول گاندھی کے خدشات درست ثابت، خارجہ پالیسی پر شدید تنقید

مودی نے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا: سدارامیا — امریکی ٹیرف پر راہول گاندھی کے خدشات درست ثابت، خارجہ پالیسی پر شدید تنقید

Thu, 07 Aug 2025 17:57:19    S O News

بنگلورو، 7/اگست (ایس او نیوز / ایجنسی):وزیر اعلیٰ کرناٹک اور سینئر کانگریس لیڈر سدارامیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دراصل مودی حکومت کی ناکام سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ راہول گاندھی نے جن خدشات کا بر وقت اظہار کیا تھا، آج وہ سب سچ ثابت ہو رہے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں سدارامیا نے کہا کہ راہول گاندھی نے وقتاً فوقتاً ملک کے اہم معاملات جیسے جی ایس ٹی، نوٹ بندی، چین کی دراندازی، اڈانی-مودی تعلقات، کووڈ پالیسی، زرعی قوانین، رافیل معاہدہ، پی ایم کیئرز فنڈ اور انتخابی بانڈز پر جو سوالات اٹھائے تھے، وہ تمام بروقت اور درست تھے، لیکن بی جے پی نے ہمیشہ ان کا مذاق اڑایا اور انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی ایک قسم کی "اقتصادی بلیک میلنگ" ہے، اور یہ مودی کی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں قومی مفاد کو نظر انداز کر کے صرف ذاتی تشہیر اور بیرونی خوشنودی کو اہمیت دی گئی۔

سدارامیا نے یاد دلایا کہ 2019 میں مودی حکومت نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی — چاہے وہ امریکہ میں "ہاؤڈی مودی" پروگرام میں "اب کی بار ٹرمپ سرکار" کا نعرہ ہو، یا احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ" جیسی تقاریب کا انعقاد۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود، ٹرمپ نے ہندوستان کو نظر انداز کیا، نہ صرف کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی بلکہ پاکستان کے فوجی سربراہ کو بھی مدعو کیا، اور وزیر اعظم مودی نے خاموش رہ کر قومی وقار کو ٹھیس پہنچائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے غزہ پر حملے کی کھل کر حمایت کی، اور مودی نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، صرف امریکہ کو خوش رکھنے کی پالیسی اپنائی۔

سدارامیا نے کہا کہ آج جب ہندوستان پر یکطرفہ تجارتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور روس کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے، تو یہ براہِ راست ہندوستان کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1970 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے امریکہ کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تھا، اور موجودہ حکومت کو بھی ان سے سبق لینا چاہیے۔

آخر میں سدارامیا نے کہا کہ راہول گاندھی کی دور اندیشی اور انتباہات کو نظر انداز کرنا ملک کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، سنجیدگی اختیار کرے اور قومی مفادات کو پہلی ترجیح دے۔


Share: