ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / پسماندہ طبقات کی جدوجہد شعور کی علامت، ذات پرستی سے جوڑنا غلط: سدارامیا

پسماندہ طبقات کی جدوجہد شعور کی علامت، ذات پرستی سے جوڑنا غلط: سدارامیا

Mon, 05 Jan 2026 12:11:09    S O News

بنگلورو ، 5 /جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ پسماندہ طبقات اگر اپنے حقوق کے لیے منظم ہوتے ہیں تو اسے ذات پرستی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے دیوانگ برادری سے اپیل کی کہ وہ ذیلی ذاتوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک متحد قوت کے طور پر منظم ہوں۔ وہ آج دیوانگ سنگھ، بنگلورو کے زیر اہتمام منعقدہ دیوانگ سنگھ کے صد سالہ جشن کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیوانگ سنگھ کا سو برس مکمل کرنا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے تنظیم کی جانب سے طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹل کی سہولت فراہم کیے جانے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام تعلیمی ترقی کی سمت ایک مؤثر قدم ہے۔وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ماضی میں خواتین اور محروم طبقات کو تعلیم سے دور رکھا گیا، تاہم اب صنفی تفریق بتدریج کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیوانگ سنگھ خواتین کو بااختیار بنانے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے تنظیم کی جانب سے خواتین ہاسٹل کی تعمیر کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمہ گیر ترقی موجودہ حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی ورثہ رکھنے کے باوجود دیوانگ برادری سماجی و معاشی اعتبار سے پسماندہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کسان غذا فراہم کرتے ہیں، اسی طرح بنکروں (نیکروں) کی محنت سے معاشرہ لباس حاصل کرتا ہے، اس لیے اس برادری کی مضبوط تنظیم وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سماجی مفکر رام منوہر لوہیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پسماندہ طبقات کی تنظیم ذات پرستی نہیں بلکہ بیداری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی محرومی ہی سماجی عدم مساوات کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے بسوا اور شَرنوں کی تحریک اور ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈکر کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی آزادی کے بغیر مساوی سماج کا قیام ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ دیوانگ برادری کے اندر موجود تمام ذیلی ذاتوں کو ختم کر کے ایک طاقت کے طور پر منظم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں شرحِ خواندگی تقریباً 76 فیصد ہے، تاہم خواتین میں یہ شرح اب بھی کم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ برادری کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ذات پات سے پاک سماج کا قیام آئینِ ہند کا نصب العین ہے، اور تمام مذاہب و ذاتوں کے لوگوں کو رواداری اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، تنظیم اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ 2004–05 میں بطور وزیر خزانہ انہوں نے بنکروں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 4.20 روپے سے کم کر کے 1.20 روپے کی تھی، جس سے تقریباً 80 فیصد بنکروں کو فائدہ پہنچا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال 20 ہارس پاور تک رعایتی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بغیر سود قرض اسکیم (5 لاکھ روپے تک)، بنکر سمان یوجنا، اور دیوراداسیمیا و وچنکار جینتیوں کا آغاز موجودہ حکومت کی اہم پہلیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پسماندہ طبقات کے لیے اراضی کی فراہمی پر بھی حکومت غور کر رہی ہے، جبکہ بنکروں کی ترقیاتی کارپوریشن کے قیام کے مطالبے کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔


Share: