میسورو، 19 جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا کہ وہ اپنی آخری سانس تک ریاست اور عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وی بی جی گرام جی قانون کی منسوخی اور منریگا کی مکمل بحالی تک جدوجہد کے لیے سب متحد ہو کر میدان میں اتریں۔
یہ بات انہوں نے ضلع انتظامیہ اور ضلع پنچایت کے زیرِ اہتمام ٹی نرسی پور تعلقہ کے کوپیا گاؤں میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ورونا اسمبلی حلقے میں مختلف محکموں کی ترقیاتی اسکیموں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور افتتاح بھی انجام دیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سال 2005 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے منریگا قانون نافذ کر کے عوام کو کام کا حق دیا تھا، لیکن موجودہ مرکزی حکومت اسے ختم کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی غریبوں، خواتین اور مزدوروں کو روزگار فراہم نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے کہا کہ منریگا ایسا قانون تھا جس کے تحت ضرورت کے وقت روزگار فراہم کیا جاتا تھا، لیکن اب اسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وی بی جی رام جی قانون میں ’رام‘ کا نام جوڑ کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف بھرپور تحریک کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے منریگا کی جگہ وی بی جی رام جی قانون نافذ کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آئندہ منریگا باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت منریگا کو جاری رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون دلتوں، خواتین اور مزدوروں کو کم از کم تین دن روزگار فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور یہ آئینی حق ہے، جسے کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے بتایا کہ کوپیا گاؤں میں تقریباً 323 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ورونا حلقے میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ 22 اکتوبر 2024 کو 501 کروڑ روپے، 9 اگست 2025 کو 1108 کروڑ روپے، اور آج 323 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے تحت منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر 1932 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام ورونا حلقے میں کیے گئے ہیں، جن میں 1500 سے زائد منصوبے شامل ہیں، جن پر ترقی اور گارنٹی اسکیموں کے تحت اخراجات کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت کے پاس ترقی کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ڈھائی برسوں میں ورونا حلقے میں 1932 کروڑ روپے اور پورے ضلع میں تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ ریاست بھر میں گارنٹی اسکیموں پر 1 لاکھ 15 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جس سے حکومت کی مالی استحکام ظاہر ہوتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ورونا حلقے کی دیکھ بھال قانون ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر یتیندر سدارامیا کر رہے ہیں، جو ان کی غیر موجودگی میں عوام کے مسائل سنتے اور حل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یتیندر حلقے کے تمام دیہات کا مکمل علم رکھتے ہیں اور ہفتے میں دو سے تین بار علاقے کا دورہ کر کے عوامی مسائل پر توجہ دیتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ میسور آنے پر وہ خود بھی عوام سے ملاقات کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اس موقع پر میسور ضلع کے انچارج وزیر ایچ سی مہادیوپا، وزراء شرن پرکاش پاٹل، ڈاکٹر ایم سی سدھاکر، رکنِ پارلیمان سنیل بوس، قانون ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر یتیندر سدارامیا، سابق وزیر اور ریاستی سطح کی گارنٹی عمل درآمد کمیٹی کے صدر ایچ ایم ریونّا، قانون ساز کونسل کے رکن ڈاکٹر تھمّیا، رکنِ اسمبلی روی شنکر سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔