ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ذات پات نے سماجی ترقی کو روکا، کوویَمپو کی فکر آج بھی مشعلِ راہ: سدارامیا

ذات پات نے سماجی ترقی کو روکا، کوویَمپو کی فکر آج بھی مشعلِ راہ: سدارامیا

Sun, 06 Jul 2025 11:07:49    S O News

بنگلورو، 6 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ ذات پات کا نظام آج بھی سماج کی فکری اور سائنسی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود سماج میں توہم پرستی، مذہبی انتہا پسندی اور قدامت پسندی بڑھتی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ ہفتہ کے روز بنگلورو میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں عظیم کنڑ ادیب اور سماجی مصلح کوویَمپو کی فکر پر مبنی کتاب "کوویَمپو وچار کرانتی" کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ یہ کتاب پروفیسر برگو رام چندراپا نے مرتب کی ہے اور ’جن پرکاشن‘ کے زیر اہتمام شائع کی گئی ہے۔

اس موقع پر سدارامیا نے کہا کہ کوویَمپو ایک سچے مصلح، بصیرت افروز مفکر اور سائنسی سوچ کے حامل دانشور تھے جنہوں نے ذات پات کے خلاف آواز اٹھائی اور مساوات پر مبنی معاشرے کا خواب دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ کوویَمپو کی فکر اس وقت تک زندہ رہے گی جب تک ذات پات پر مبنی تفریق ہمارے سماج میں باقی ہے۔

سدارامیا نے اس بات پر زور دیا کہ محض قانون سازی سے سماجی تبدیلی ممکن نہیں، بلکہ عوام میں سائنسی مزاج اور عقلی رویہ فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’توہم پرستی مخالف قانون صرف اسی صورت میں مؤثر ہو سکتا ہے جب عوام خود اپنے اندر تبدیلی لائیں۔‘‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ حکومت نے عوامی شعور بیدار کرنے کے مقصد سے ریاست میں "آئین پڑھو" اور "آئین کی تمہید" جیسی مہمات کا آغاز کیا ہے تاکہ شہریوں کو جمہوری اقدار، مساوات اور آئینی حقوق سے روشناس کرایا جا سکے۔

اپنی گفتگو میں سدارامیا نے سیاست میں ذات پات کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’’بطور سیاست دان ہمیں بعض عملی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں اگر ہم مندر نہ جائیں تو لوگ ہمیں ووٹ نہیں دیتے، اور ہمارے خلاف منفی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کوویَمپو کا ایک معروف قول یاد دلاتے ہوئے کہا: ’’آؤ! مندر، مسجد اور گرجا گھر چھوڑ دو، اور غربت کی جڑیں اکھاڑ پھینکو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر سماج اس نعرے پر عمل کرے تو ہم ایک منصفانہ اور مساوات پر مبنی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

اس موقع پر سدارامیا نے واضح کیا کہ ریاست میں دو لسانی فارمولا (کنڑا اور انگریزی) ان کی ذاتی رائے ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ حکومت کی سرکاری پالیسی بنے۔ اس سلسلے میں وہ سنجیدگی سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تقریب میں معروف کنڑا ادیب ناڈوجا ڈاکٹر ہمپا ناگرجیا، سبکدوش جج جسٹس ایچ این ناگموہن داس، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر چدانند گوڈا، کتاب کے مرتب پروفیسر برگو رام چندراپا اور جن پرکاشن کے نمائندے سمیت بڑی تعداد میں دانشور اور علمی شخصیات موجود تھیں۔


Share: