ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / روہنگیا پناہ گزینوں کے اسکول داخلہ اور اسپتال علاج کی درخواست پر سپریم کورٹ کی آج سماعت

روہنگیا پناہ گزینوں کے اسکول داخلہ اور اسپتال علاج کی درخواست پر سپریم کورٹ کی آج سماعت

Mon, 10 Feb 2025 11:15:54    S.O. News Service

نئی دہلی ، 10/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )قومی دارالحکومت دہلی میں رہائش پذیر روہنگیا پناہ گزینوں کو سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں میں سہولت دینے سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی جانب سے داخل کی گئی، جس میں عدالت سے مرکزی اور دہلی حکومت کو ہدایات جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ اس درخواست پر پیر (10 فروری) کو سماعت کرے گا۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ کرے گی۔ اس سے قبل 31 جنوری کو عدالت نے این جی او ’روہنگیا ہیومن رائٹس انیشی ایٹو‘ سے یہ وضاحت طلب کی تھی کہ دہلی میں روہنگیا پناہ گزین کہاں رہ رہے ہیں اور انہیں کون سی بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

علاوہ ازیں عدالت نے این جی او سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے سینئر وکیل گونسا لوس سے حلف نامہ داخل کر روہنگیا پناہ گزینوں کے ٹھکانوں کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا تھا۔ گونسا لوس نے بتایا کہ ’’پناہ گزینوں کو سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں تک پہنچ نہیں مل رہی کیونکہ ان کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہیں۔ وہ پناہ گزین ہیں اور ان کے پاس یو این ایچ سی آر (اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین) کا کارڈ ہے۔ اس لیے وہ آدھار کرڈ نہیں بنوا سکتے لیکن آدھار کارڈ کے بغیر انہیں سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں میں داخلے سے منع کیا جا رہا ہے۔‘‘

گونسا لوس کے مطابق دہلی میں روہنگیا پناہ گزین شاہین باغ، کالندی کنج اور کھجوری میں رہتے ہیں۔ شاہین باغ اور کالندی کنج میں جھگی بستیوں میں بسے ہوئے ہیں اور کھجوری خاص میں کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ این جی او نے عدالت سے درخواست کی کہ تمام روہنگیا بچوں کو سرکاری اسکولوں میں مفت داخلہ فراہم کیا جائے، خواہ ان کے پاس آدھار کارڈ نہ ہوں۔ عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج، انتیودیا انا یوجنا (اے اے وائی) کے تحت سستی قیمتوں پر اناج اور فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت دیگر شہریوں کی طرح فوائد فراہم کیے جائیں۔

قابل ذکر ہے کہ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے کہا کہ چونکہ عرضی  دہلی میں روہنگیا پناہ گزینوں سے متعلق ہے اور این جی او نے دہلی حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کیا ہے اس لیے اس معاملے میں پہلے ہائی کورٹ سے سے رجوع کرنا مناسب ہوگا۔ حالانکہ گونسا لوس نے کہا کہ حکومت نے دیگر معاملوں میں یہ قبول کیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں میں جانے کا حق ہے۔ اب سپریم کورٹ کل اہم معاملے پر سماعت کرے گی اور طے کرے گی کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو سرکاری سہولیات کا فائدہ ملے گا یا نہیں۔


Share: