ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشی نگر مسجد پر بلڈوزر کارروائی، سپریم کورٹ کی سخت برہمی: ’حکم عدولی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا‘

کشی نگر مسجد پر بلڈوزر کارروائی، سپریم کورٹ کی سخت برہمی: ’حکم عدولی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا‘

Tue, 18 Feb 2025 10:54:07    S O News

نئی دہلی   ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )اتر پردیش کے کشی نگر میں حال ہی میں ایک مسجد پر کی گئی بلڈوزر کارروائی پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں حکم عدولی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے یوپی حکومت اور متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی انتظامیہ کو دو ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کی طرف سے مسجد میں کی گئی توڑ پھوڑ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم پھر سے حکم دے رہے ہیں کہ ایسا کوئی بھی قدم ہمارے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی۔ جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے ضلع مجسٹریٹ سمیت سبھی ذمہ دار افسران کو اس سلسلے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکم عدولی کرنے والے افسران کو بخشا نہیں جائے گا۔

واضح رہے کہ کشی نگر واقع مدنی مسجد کا ایک حصہ رواں ماہ کے شروع میں بلڈوز کے ذریعہ منہدم کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسی کارروائی کو لے کر داخل ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کیا اور متعلقہ افسران سے جواب مانگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ذمہ دار افسران سے سوال کیا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی سے متعلق کارروائی شروع کی جائے۔ ساتھ ہی بنچ نے ہدایت دی کہ آئندہ حکم تک ڈھانچہ کو نہیں گرایا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ مدنی مسجد کے ایک حصہ کو گزشتہ 9 فروری کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے مدنی مسجد کے ناجائز حصوں کو گرایا تھا، جس پر خوب ہنگامہ بھی برپا ہوا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے بھی اس کارروائی کے لیے یوگی حکومت کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ مسجد توڑنے کا حکم نگر پالیکا کے ایگزیکٹیو انجینئر مینو سنگھ نے دیا تھا۔ کانگریس ریاستی صدر اجئے رانے اس تعلق سے یہ الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اشارے پر ریاست میں آپسی خیر سگالی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اجئے رائے نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے بہرائچ، پھر سنبھل اور اس کے بعد کشی نگر کی مدنی مسجد پر بلڈوزر چلانے کا کام اسی منشا کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔ ہائی کورٹ کا حکم التوا 8 فروری کو ختم ہوتے ہی انتظامیہ نے اگلے دن اتوار کو چھٹی کے دن منصوبہ بند طریقے سے بلڈوزر چلوا دیا۔


Share: