ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سنبھل تشدد: اقلیتی طبقے کے مزید 2 افراد گرفتار، گرفتار شدگان کی تعداد 79 تک پہنچی

سنبھل تشدد: اقلیتی طبقے کے مزید 2 افراد گرفتار، گرفتار شدگان کی تعداد 79 تک پہنچی

Tue, 18 Feb 2025 11:04:32    S O News

سنبھل، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )اتر پردیش کے سنبھل میں نساکھا تھانہ پولیس نے جامع مسجد سروے کے دوران ہوئے ہنگامے میں ملوث دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت حسن عرف چھوٹو اور صمد کے طور پر ہوئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سنبھل تشدد کے معاملے میں اب تک 79 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ سنبھل پولیس رواں ہفتے اس معاملے میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

واضح ہو کہ سنبھل تشدد کے معاملے میں اب تک 12 معاملات درج کیے جا چکے ہیں جس میں 2750 سے زائد لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس درمیان سنبھل ایس پی کرشنا کمار وشنوئی نے سنبھل سے لوگوں کی ہجرت کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’تشدد میں تقریباً 3 ہزار لوگ شامل تھے جنہوں نے پولیس پر پتھر بازی کے علاوہ فائرنگ اور آتش زنی کی تھی۔‘‘ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف 79 ملزمان کو ہی گرفتار کیا گیا ہے بقیہ لوگ اب بھی فرار ہیں۔

سنبھل ایس پی نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ کئی ملزمان کی پہچان ہونی ابھی باقی ہے، اس کے لیے پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں تالے لگا کر فرار ہو چکے ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ وہی لوگ ہیں جو تشدد میں شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں لوگ زندگی معمول کے مطابق جی رہے ہیں، کسی بھی بے قصور کو پولیس ہراساں نہیں کر رہی ہے۔ اسکول و کالج میں بچے جا رہے ہیں، بازار کھلے ہیں اور عام زندگی معمول پر ہے۔ عوام میں ڈر و خوف کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ ساتھی ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ کسی بھی بے قصور شخص کو پریشان نہیں کیا جائے گا۔

گرفتار دونوں ملزمان حسن عرف چھوٹو اور صمد کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ ’’یہ دونوں ملزمان جامع مسجد سروے کے دوران ہوئے ہنگامے میں شامل تھے۔ ہندوپورا کھیڑا اور نکھاسا تِراہے پر پولیس پر انھوں نے پتھر بازی اور آتش بازی کی تھی۔ ملزم ویڈیو اور تصاویر میں قید ہو گئے تھے۔ پوچھ تاچھ میں بھی جرم قبول کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایس پی نے بتایا کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔


Share: