پونے، 29/ جون (ایس او نیوز/ایجنسی) یہاں سنسنی خیز کیتن اگروال قتل کیس کی تفتیش اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں پولیس پوری کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے لیے ملزمہ سیا گوئل کو لے کر لوہ گڑھ قلعہ پہنچی۔ اس کا مقصد پوری واردات کو ’ری کریٹ‘ کرنا تھا اور یہ معلوم کرنا تھا کہ ملزمین نے کس طرح واردات انجام دی۔
پولیس افسران نے واقعہ کی ترتیب اور اس کے بیانات کی تصدیق کے لیے کلیدی ملزمہ سیا گوئل کی موجودگی میں پورے واقعہ کو ’ری کریٹ‘ کیا۔ اس طرح پولیس کو امید ہے کہ اس سے نئے سراغ ملیں گے، جس سے اسے اس کیس کو سلجھانے میں آسانی ہوگی۔
پولیس اتوار کی صبح ساڑھے 6 بجے سیا گوئل کو لے کر لوہ گڑھ قلعہ پہنچی اور اسے جائے واردات پر لے جایا گیا، جہاں قتل کے منظر کا ری کریئشن کیا گیا۔
ملزمہ سے یہ دکھانے کو کہا گیا کہ اس دن کیا ہوا تھا، کون کہاں کھڑا تھا، آخرکار کیتن اگروال کھائی میں گرا کیسے۔
پولیس افسران کے مطابق سیا گوئل کو پہلے اس جگہ لے جایا گیا جہاں اس نے اپنے عاشق چیتن چودھری کے ساتھ مل کر کیتن اگروال کو دھکا دیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس پوری کارروائی کا مقصد ملزمین کے بیان کو جائے واردات کے حالات سے ملانا تھا، یعنی جو کہانی وہ اپنے بیانات میں بتا رہے ہیں، کیا وہ زمین پر بھی ویسی ہی ہے؟ کیا جس جگہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں سے دھکا دینا ممکن ہے؟
واضح رہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران ملزمہ سیا گوئل نے کیتن اگروال کو قتل کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اگر وہ طے کی گئی ارینج میریج سے انکار کر دیتی تو خاندان کی بدنامی ہوتی، اس لیے دونوں نے یہ راستہ چنا تھا۔
پولیس کے مطابق کیتن اگروال کو تفریح کے لیے بلایا گیا اور موقع ملتے ہی اسے گہری کھائی میں دھکا دے دیا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ قتل کی سازش کب اور کیسے رچی گئی تھی۔