نئی دہلی ، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اب تقریباً چھ ماہ باقی ہیں، ایسے میں نیٹ پیپر لیک تنازع نے ریاست کی سیاست کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو ایک بار پھر مشترکہ طور پر بی جے پی کو گھیرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جس کے بعد اترپردیش کی سیاست میں سرگرمی بڑھ گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کامیاب اتحاد کے بعد راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کی سیاسی ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی ہے، جس سے ۲۰۲۷ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں مشترکہ مقابلے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ نیٹ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ کی تحریک نے اس اتحاد کو نئی تقویت دی ہے۔ دونوں لیڈروں نے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر مشترکہ احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو پیپر لیک، بے روزگاری اور بھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر گھیرنے کی کوشش کی۔ اس دوران ڈمپل یادو نے بھی زخمی طلبہ سے ملاقات اور ان کی مدد کر کے سماجوادی پارٹی کو نوجوانوں کے مسائل سے جڑی ایک ہمدرد جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔اس سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے قومی سیکریٹری محمد ارشد خان نے کہا کہ راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور دونوں جماعتوں کے قائدین کی مشترکہ احتجاجی مہم نے اپوزیشن کی یکجہتی کا مضبوط پیغام دیا ہے۔ ان کے مطابق نیٹ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور روزگار جیسے مسائل نے نوجوانوں اور ان کے والدین میں حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھائی ہے۔
اسی طرح کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق چیئرمین معروف خاں نے کہا کہ یہ اتحاد اب ایک مضبوط سیاسی حقیقت بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست اور ملک میں بی جے پی مخالف فضا مضبوط ہو رہی ہے، اور اگر دونوں جماعتوں کا اتحاد برقرار رہا تو ۲۰۲۷ء کے اسمبلی اور ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج نے بھی حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کو نمایاں کر دیا ہے، جس کا اثر آئندہ انتخابات میں دکھائی دے گا۔