بینگلورو، 16 / فروری (ایس او نیوز) وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایت راج پریان کھرگے نے راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غیر قانونی رقم منتقلی (منی لانڈرنگ)کا دھندا چلایا جا رہا ہے ، اس لئے قانون اور دستور کے تحت سنگھ کا رجسٹریشن ہونے تک میں خاموش نہیں رہوں گا ۔
کل اتوار کے دن شہر کے گاندھی بھون میں صحافی ارشاد اپن انگڈی کی کتاب ' کراولی کے خون کے آنسو' (فرقہ وارانہ عداوت کی آگ میں جھلستی ہوئی زندگیاں)نامی کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر پریانک کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس کے ساتھ اس سے جڑے ہوئے تقریباً 2,500 ادارے ہیں ۔ امریکہ، انگلینڈ سمیت کئی ملکوں سے رقم وصول کی جاتی ہے ۔ اگر اس پر غور کریں تو کہا جا سکتا ہے آر ایس ایس کے پیچھے منی لانڈرنگ کا ایک بہت بڑا کاروبار چل رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس سے اسے ملنے والی رقم کے ذرائع کے بارے میں پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں 'گرو دکشنا' ملتی ہے ۔ اس طرح کا بے بنیاد جواب دے کر کوئی بھی بچ نہیں سکتا ۔ اس لئے جب تک قانونی طور پر آر ایس ایس کو رجسٹر نہیں کیا جاتا تب تک میں چپ نہیں رہوں گا ۔
پریانک کھرگے نے کہا کہ والمیکی نے جو رامائن لکھی تھی وہ اس سے بہت مختلف ہے جو آج کل چل رہا ہے ۔ سیاست دان اور مذہبی رہنما اپنے اپنے حساب سے دھرم کے بارے میں بول رہے ہیں ۔ کوئی مذہب تشدد پر نہیں اکساتا ۔ ہندووں کو تین بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینے والے آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے خود ہی شادی نہیں کی ہے ۔ پھر بھی وہ دوسروں کو بچے پیدا کرنے پر اکسا رہے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی والے باہر ایک بات اور اندر دوسری بات کہتے ہوئے غریبوں کے بچوں کو سڑکوں پر لانے کا کام کر رہے ہیں ۔ جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ غریبوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، بیرونی ممالک میں جانے کے قابل ہو جائیں ۔ ہمیں بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ ہوشمند بھی ہونا چاہیے ۔ ذات پات اور سماجی فرقوں کا جھگڑا ہمیں چھوڑ دینا چاہیے ۔ حصول تعلیم پر زیادہ زور دینا چاہیے ۔