نئی دہلی ، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)مرکزی حکومت نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ اس کے پاس امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانیوں کی صحیح تعداد سے متعلق کوئی مستند معلومات نہیں ہیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ ان تارکین وطن کے بارے میں کوئی باضابطہ ریکارڈ دستیاب نہیں، کیونکہ یہ افراد یا تو ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں رکے رہے یا پھر بغیر قانونی دستاویزات کے وہاں داخل ہوئے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ حکومت ہند ’ڈیپورٹیشن کے سبھی معاملوں‘ میں امریکی حکومت کے ساتھ ربط بنا کر کام کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا اس کے پاس موجودہ وقت میں امریکہ میں بغیر دستاویز والے ہندوستانی تارکین وطن کی تعداد کا کوئی ڈاٹا ہے؟ کیا ڈونالڈ ٹرمپ حکومت کے تحت امریکی ڈیپورٹیشن پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیوں کے سبب ہندوستانی شہریوں کے ممکنہ ڈیپورٹیشن سے نمٹنے کا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے؟
رندیپ سنگھ سرجے والا کے سوالوں پر حکومت کا جواب ایسے وقت میں آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے دو روزہ سفر پر ہیں۔ حکومت سے راجیہ سبھا میں یہ سوال بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ بیرون ملک میں ہندوستانیوں کو، خصوصاً ان غیر قانونی تارکین وطن کو جو ڈیپورٹیشن یا قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، قانونی یا مالیاتی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس پر وزیر نے کہا کہ امریکی فریق کی طرف سے ڈیپورٹیشن کے لیے پہچانے گئے لوگوں کی فہرست کی حکومت ہند کی مختلف ایجنسیاں باریکی سے جانچ کرتی ہیں۔ صرف ان اشخاص کو ڈیپورٹ کیا جاتا ہے، جن کے ہندوستانی شہری ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک میں رہ رہے ہندوستانیوں کو مدد دی جاتی ہے اور حکومت قانونی رہائش و آمد و رفت سے جڑے سبھی ایشوز پر فعال طریقے سے کام کرتی ہے۔