ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عبادت گاہ تحفظ قانون پر اسٹے برقرار، تین رکنی بینچ کو بھیج دیا گیا، اپریل میں ہوگی اگلی سماعت

عبادت گاہ تحفظ قانون پر اسٹے برقرار، تین رکنی بینچ کو بھیج دیا گیا، اپریل میں ہوگی اگلی سماعت

Tue, 18 Feb 2025 12:28:14    S O News

نئی دہلی ، 18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی )عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون سے متعلق داخل کی گئی عرضیوں پر آج چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جس دوران چیف جسٹس نے پچھلی سماعت پر دیے گئے اسٹے میں توسیع کر دی۔ عدالت نے اس سلسلے میں تازہ عرضیوں پر نوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں مداخلت کار کی درخواست کے طور پر دائر کرنے کی ہدایت دی۔ جمعیۃ علمائے ہند کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، چیف جسٹس کے حکم پر ایک تین رکنی بینچ اپریل کے پہلے ہفتے میں اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔ اس قانون کی مخالفت میں آج پانچ نئی عرضیاں سماعت کے لیے پیش کی گئیں، لیکن عدالت نے ان پر نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ وکلاء نے درخواست کی تھی کہ تمام عرضیوں کو سماعت کے لیے قبول کیا جائے، تاہم عدالت نے کہا کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور اسے طے کرنا عدالت کا اختیار ہے، اس لیے جن عرضیوں پر اب تک نوٹس نہیں دیا گیا، ان پر نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا، مگر ان کو مداخلت کار کی درخواست کے طور پر داخل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار نے آج عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کی حمایت اور مخالفت میں داخل تمام عرضیوں پر یکجا سماعت کی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باجود مرکزی حکومت نے اپنا حلف نامہ داخل نہیں کیا جس پر اس قانون کی مخالفت میں عرضی داخل کرنے والے وکلاء نے برہمی کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے عرضیاں داخل کرنے کا عمل ختم ہو اس کے بعد ہی مرکزی حکومت تمام عرضیوں پر ایک ساتھ حلف نامہ داخل کریگی۔

آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہندکے وکیل ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول (نوڈل کونسل) نے ابتک اس مقدمہ میں داخل تمام عرضیوں کا نچوڑ پیش کیا جسے چیف جسٹس نے قبول کیا۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ اس معنی میں بہت اہم ہے کہ اس سے فرقہ پرست عناصر کی شرانگیز سرگرمیوں پر قدغن لگی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس اور اہم مقدمہ ہے،کیوں کہ اس قانون کو برقرار رکھنے سے ہی ملک کا اتحاد اور بھائی چارہ محفوظ رہ سکتا ہے۔فرقہ پرست طاقتوں نے ایک بار پھر اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کردیا ہے،اور اس طرح کے معاملوں میں نچلی عدالتوں نے جوغیر ذمہ دارانہ فیصلے دییے اس سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

مولانا مدنی نے ایک بار پھر کہا کہ بابری مسجد پر آنے والے فیصلے کو ہم نے دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا تھا کہ چلو اب مسجد مندر کا کوئی تنازع نہیں ہوگا اور ملک بھر میں امن و امان اور بھائی چارے کا ماحول قائم رہے گا لیکن ہمارا یہ یقین غلط ثابت ہوا،حکمرانوں کی در پردہ شہ سے ایک بار پھر فرقہ پرست طاقتوں کو صف بند ہونے کا موقع مل گیا اور انہوں نے آئین و قانون کی بالادستی کو ختم کرتے ہوئے کئی جگہوں پر ہماری عبادتگاہوں کو اپنا نشانہ بنا ڈالا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح عبادتگاہوں کے تحفظ سے متعلق ایک واضح اور سخت قانون کی موجودگی میں یہ سب کیا گیا اور مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی بلکہ بعض صوبائی حکومتوں نے پولس اور انتظامیہ کو آگے کرکے جس طرح فرقہ پرست عناصر کی دانستہ حوصلہ افزائی کی وہ اس بات کا خطرناک اشارہ ہے کہ اگر خدانخواستہ یہ قانون ختم ہوگیا تو ملک میں کوئی مسجد،قبرستان، عیدگاہ اور امام باڑہ محفوظ نہیں رہے گا۔فرقہ پرست عناصر ہر جگہ مندر ہونے کا دعوی کرکے آئے دن تنازع کھڑا کرتے رہیں گے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اس ابتر صورتحال نے ملک بھر کے تمام انصاف پسند شہریوں کو گہر ی تشویش میں مبتلا کردیا ہے مگر اقتدار میں موجود لوگ اس طرح چپ ہیں جیسے ان کی نظر میں یہ کچھ بھی نہیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ ہماری آخری امید عدلیہ ہے ہم نے اپنی قانونی جدوجہد سے کئی بڑے معاملوں میں انصاف حاصل کیا ہے اس لئے ہمیں یقین ہے کہ اس اہم معاملے میں بھی انصاف کو سربلندی حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ سنبھل شاہی جامع مسجد سانحہ اور اجمیر درگا ہ پر ہندوؤں کے دعوے کے پس منظر میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کے تعلق سے داخل پٹیشن پر سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے مسلم عبادت گاہوں کے خلاف قائم مقدمات پر فوری روک لگا دی تھی اور نئے مقدمات پر کارروائی کرنے سے نچلی عدالتوں کو منع کردیا تھا۔عدالت نے مسلم عبادت گاہوں کے سروے پر بھی روک لگادی تھی نیزنچلی عدالت کو کسی بھی طرح کا حتمی فیصلہ دینے سے منع کردیاتھا۔ آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر یڈوکیٹ یوسف ہاتم مچھالہ، ایڈوکیٹ ورندا گروور، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول ،ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء و و دیگر موجود تھے۔

اس قانون کی حفاظت کے لیئے جمعیۃ علماء واحد تنظیم ہے جس نے خصوصی پٹیشن داخل کی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے والی پٹیشن پر ہونے والی پہلی ہی سماعت پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون پیش ہوئے تھے تب سے لیکر ابتک جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اس مقدمہ کی پیروی کی جارہی ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد دیگر مسلم تنظیمیں بطور مداخلت کار فریق بنی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اس مقدمہ کو گلزاراعظمی مرحوم نے جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے داخل کیا تھا ان کے انتقال کے بعد مولانا اسجدمدنی نائب صدرجمعیۃعلماء ہند اس کیس کے پٹیشنربنے۔


Share: