نئی دہلی/بنگلورو، 30 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی): کرناٹک کے وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڑا نے مرکزی حکومت کی طرف سے مجوزہ جی ایس ٹی سادہ کاری پر شدید خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ریاستوں کو 85 ہزار کروڑ سے لے کر 2.5 لاکھ کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی کے مستحکم ہونے تک ریاستوں کو معاوضہ دینا ناگزیر ہے، ورنہ اس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑے گا اور ریاستوں کی مالی خود مختاری متاثر ہوگی۔
کرشنا بائرے گوڑا دہلی کے کرناٹک بھون میں منعقدہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس "جی ایس ٹی سادہ کاری اور ریاستوں کی خود مختاری" کے عنوان پر طلب کیا گیا تھا، جس میں کرناٹک کے ساتھ آٹھ ہم خیال ریاستوں کے وزرائے خزانہ اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تلنگانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، پنجاب، کیرالہ اور مغربی بنگال کے نمائندے بھی موجود تھے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حکومتیں ٹیکس کے نظام کو سادہ بنانے کی حامی ہیں، مگر یہ عمل ریاستوں کی آمدنی گھٹانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہئے۔ ’’یہ فائدہ براہِ راست عوام کو پہنچنا چاہئے، نہ کہ چند بڑی کمپنیوں تک محدود رہے‘‘، انہوں نے کہا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکزی حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ نئی تجویز سے ریاستوں کو کتنا نقصان ہوگا، جبکہ مختلف اداروں نے اس کا تخمینہ 85 ہزار کروڑ سے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کے درمیان لگایا ہے۔ ان کے مطابق جی ایس ٹی سے حاصل آمدنی میں مرکز کا حصہ صرف 28 فیصد ہے جبکہ بقیہ آمدنی انکم ٹیکس، کسٹمز، ڈیویڈنڈ اور مختلف سیس سے آتی ہے، اور ان سیس کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں سے مرکز ایک روپیہ بھی ریاستوں کو نہیں دیتا۔
کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ دوسری جانب ریاستوں کی کل آمدنی کا تقریباً 50 فیصد حصہ جی ایس ٹی پر منحصر ہے۔ اگر اس میں 20 فیصد کی بھی کمی واقع ہوئی تو یہ ریاستوں کی مالی خود مختاری پر شدید ضرب ہوگی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 میں جی ایس ٹی نافذ کرتے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے ریاستوں اور مرکز دونوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، مگر گزشتہ سات سے آٹھ برسوں کے تجربات نے یہ دعویٰ غلط ثابت کیا۔ جی ایس ٹی سے قبل وی اے ٹی کے ذریعے ملک کی جی ڈی پی میں 6.1 فیصد حصہ داری تھی، جو آج تک جی ایس ٹی کے باوجود 5.9 فیصد سے اوپر نہیں جا سکی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 2022 میں ریاستوں کے لیے جی ایس ٹی معاوضہ بند کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی ریاستوں کو 25 فیصد آمدنی کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں جی ایس ٹی کو "مستحکم" کہنا درست نہیں۔ اگر ریاستوں کی آمدنی میں بڑے پیمانے پر خسارہ ہوا تو عوام پر بوجھ بڑھنا طے ہے اور ریاستی حکومتیں مرکز کی محتاج ہو جائیں گی، جبکہ ’’خود مختاری‘‘ محض لفظوں تک محدود رہ جائے گی۔