ممبئی، 15/فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر کی ’مہایوتی حکومت‘ نے بھی ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون سازی کی سمت میں قدم بڑھا دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے پر غور و خوض کے لیے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی ’لو جہاد‘ سے متعلق تمام قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی، جسے بعد میں حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ کمیٹی میں محکمہ فلاحِ خواتین و اطفال، اقلیتی ترقی، قانون و انصاف، سماجی انصاف و خصوصی امداد، اور داخلہ امور کے سکریٹریز سمیت دیگر متعلقہ افسران شامل ہوں گے۔
مہاراشٹر میں مبینہ طور پر بڑھتے ’لو جہاد‘ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس کے لیے ریاستی حکومت نے ڈی جی پی کی صدارت میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی ریاست کے موجودہ حالات کا مطالعہ کرے گی اور لو جہاد، دھوکہ دہی و جبراً مذہب تبدیلی کے خلاف ترکیب پیش کرتے ہوئے ایک مسودہ تیار کرے گی۔ اس طرح مہاراشٹر ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون بنانے والی ملک کی دسویں ریاست بن جائے گا۔
اب تک ملک کی 9 ریاستوں میں لو جہاد کے خلاف قانون بن چکے ہیں۔ یہ ریاستیں اتر پردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ ہیں۔ انہی ریاستوں کی طرز پر بی جے پی لیڈر اور ریاستی وزیر نتیش رانے سمیت ریاست کی مختلف تنظیموں نے مہاراشٹر میں لو جہاد قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ریاست میں مذہب تبدیلی کی شکایتوں کے بعد دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں اس کے خلاف قانون بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔