نئی دہلی ،2/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی کی نو تشکیل شدہ ریکھا حکومت نے آج ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کو شہر میں پٹرول اور ڈیزل فراہم نہیں کیا جائے گا۔ وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے اس اقدام کو فضائی آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 31 مارچ کے بعد دہلی کے تمام پٹرول پمپوں پر 15 سال پرانی گاڑیوں کو ایندھن دینے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
منجندر سنگھ سرسال نے ہفتہ کے روز اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی حکومت 31 مارچ کے بعد شہر بھر کے ایندھن اسٹیشنوں پر 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کو پٹرول دینا بند کر دے گی۔‘‘ دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کی ترکیبوں کے لیے افسران کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیا گیا۔ میٹنگ میں پالیسی پر مبنی اہم فیصلوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں پرانی گاڑیوں پر پابندی، لازمی اینٹی اسماگ ترکیب اور الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ میں تبدیلی شامل ہیں۔
میٹنگ کے بعد سرسا نے کہا کہ حکومت گاڑیوں سے ہونے والے اخراج اور آلودگی پر قدغن لگانے کے لیے سخت قدم اٹھا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پٹرول پمپوں پر ایسے گیزیٹ لگا رہے ہیں جو 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی شناخت کریں گے اور انھیں کوئی ایندھن دستیاب نہیں کرایا جائے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ دہلی حکومت اس فیصلے کے بارے میں مرکزی وزارت برائے پٹرولیم کو جلد مطلع کرے گی۔
پرانی گاڑیوں کے لیے ایندھن فراہمی ممنوع کیے جانے کے علاوہ سرسا نے یہ بھی اعلان کیا کہ راجدھانی میں سبھی اونچی عمارتوں، ہوٹلوں اور کمرشیل احاطوں میں فضائی آلودگی کی سطح کو روکنے کے لیے ’اینٹی اسموگ گن‘ نصب کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں تقریباً 90 فیصد پبلک سی این جی بسوں کو دسمبر 2025 تک سلسلہ وار طریقے سے ہٹا دیا جائے گا اور اس کی جگہ الیکٹرک بسوں کو سڑکوں پر اتارا جائے گا، جو کہ صاف ستھرے اور مضبوط ہوں گے۔