ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نیا انکم ٹیکس بل 2025 لوک سبھا میں پیش، اپوزیشن کا اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ

نیا انکم ٹیکس بل 2025 لوک سبھا میں پیش، اپوزیشن کا اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ

Thu, 13 Feb 2025 18:27:56    S O News
نیا انکم ٹیکس بل 2025 لوک سبھا میں پیش، اپوزیشن کا اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ

نئی دہلی 14/ فروری (ایس او نیوز) مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعرات کو لوک سبھا میں انکم ٹیکس بل 2025 پیش کیا، جس کا مقصد موجودہ پیچیدہ ٹیکس قوانین کو آسان، جامع اور واضح بنانا ہے۔ تاہم، اپوزیشن نے اس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے بجائے اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ کمیٹی کی حدود طے کریں اور آئندہ اجلاس کے پہلے دن تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیں۔

بل میں اہم تبدیلیاں:

نرملا سیتارمن نے وضاحت کی کہ 1961 میں نافذ انکم ٹیکس ایکٹ میں وقت کے ساتھ کئی ترامیم کی گئیں، جس کے نتیجے میں اس کے سیکشنز کی تعداد 819 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اس میں 1200 پرووائیز اور 900 وضاحتیں بھی شامل ہوچکی تھیں، جس سے قانون انتہائی پیچیدہ ہوگیا تھا۔ نئے بل میں ان تمام پیچیدگیوں کو کم کرتے ہوئے ابواب کی تعداد 47 سے گھٹا کر 23 کردی گئی ہے، جبکہ قانون کی زبان کو مزید سادہ اور واضح بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، قانون کے الفاظ کی تعداد 512,535 سے کم کر کے 259,676 کردی گئی ہے۔

ٹیکس کے نئے اصول اور کرپٹو کرنسی کی وضاحت:

نئے بل میں ’پچھلے سال‘ اور ‘اسیسمنٹ سال‘ کے پرانے تصورات ختم کر کے ایک نیا 'ٹیکس سال' متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت پیدا کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ورچوئل ڈیجیٹل ایسیٹس (VDAs) کی واضح تعریف بھی شامل کی گئی ہے، جس میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے بھی شامل ہوں گے۔

اس حوالے سے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسیشن (CBDT) نے وضاحت کی کہ کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنے کے اصول تبدیل نہیں کیے گئے ہیں بلکہ انہیں مزید واضح کیا گیا ہے۔ کرپٹو پلیٹ فارم Giottus کے سی ای او وکرم سبوراج نے کہا کہ یہ اقدام کرپٹو کرنسی کو باضابطہ طور پر ہندوستانی مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

حکومت کا مؤقف:

وزارت خزانہ کے مطابق، یہ بل کاروباری آسانی اور ٹیکس قوانین کی شفافیت کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بل کی تیاری کے دوران 20,976 آن لائن تجاویز موصول ہوئیں، جن میں سے موزوں تجاویز کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ماہرین سے مشاورت اور آسٹریلیا و برطانیہ کے ماڈلز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ماہرین کی رائے:

ماہرین کے مطابق، یہ بل تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:

  1. ٹیکس پالیسی کی جدید کاری تاکہ یہ کاروباری تغیرات کے ساتھ مطابقت رکھ سکے۔

  2. ٹیکس قوانین میں وضاحت تاکہ تنازعات کم سے کم ہوں۔

  3. ٹیکس کمپلائنس میں سادگی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کریں۔

نئی انکم ٹیکس بل میں نمایاں تبدیلیاں: ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں

حکومت نے انکم ٹیکس کے نئے بل کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں کئی اہم ترامیم کی گئی ہیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ بل موجودہ انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی جگہ لے گا اور متعدد پیچیدگیوں کو ختم کر دے گا۔

سادہ اور مختصر ڈھانچہ:

نئے بل میں الفاظ کی تعداد تقریباً نصف کر دی گئی ہے، یعنی 5.12 لاکھ الفاظ سے کم کرکے 2.60 لاکھ الفاظ کر دیے گئے ہیں تاکہ اسے آسانی سے سمجھا جا سکے۔

1,200 سے زائد پرانے قواعد اور 900 وضاحتی نکات کو حذف کر دیا گیا ہے۔

سرمایہ جاتی منافع، کٹوتیوں اور تنازعات کے حل سے متعلق غیر ضروری شقیں ختم کر دی گئی ہیں۔

موجودہ ایکٹ میں 800 سے زائد سیکشنز ہیں جبکہ نئے بل میں صرف 5 بنیادی سیکشن رکھے گئے ہیں۔

'ٹیکس ایئر' کا تعارف:

نئے بل میں 'ٹیکس ایئر' (Tax Year) کا تصور متعارف کرایا گیا ہے جو 'اسیسمنٹ ایئر' (AY) اور 'پچھلا سال' (Previous Year) کی جگہ لے گا۔

موجودہ نظام میں، مثال کے طور پر، مالی سال 2023-24 میں حاصل کردہ آمدنی 2024-25 میں اسیس کی جاتی ہے۔

نئے نظام کے تحت، آمدنی پر اسی ٹیکس ایئر میں ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جس سے ٹیکس دہندگان کے لیے حساب کتاب آسان ہوگا۔

مزید منظم اور واضح دفعات:

ٹی ڈی ایس (TDS)، ٹی سی ایس (TCS)، کٹوتیوں اور چھوٹ سے متعلق تفصیلات کو ٹیبلز میں منظم کر دیا گیا ہے۔

غیر منافع بخش تنظیموں (NGOs) سے متعلق تمام دفعات کو ایک ہی چیپٹر میں ضم کر دیا گیا ہے۔

تنخواہ دار افراد کے لیے مخصوص کٹوتیوں کو الگ سیکشن میں رکھا گیا ہے۔

ورچوئل ڈیجیٹل اثاثے (VDAs) کو پراپرٹی کا درجہ:

کرپٹو کرنسیز اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو سرکاری طور پر سرمایہ جاتی منافع (Capital Gains) کے فریم ورک کے تحت قابلِ ٹیکس اثاثے قرار دیا گیا ہے۔

تخمینی ٹیکسیشن کی حد میں اضافہ:

کاروباری اداروں کے لیے تخمینی ٹیکسیشن (Presumptive Taxation) کی حد 2 کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

پیشہ ور افراد کے لیے یہ حد 50 لاکھ سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جس سے چھوٹے کاروباروں اور خود ملازمت کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی ادائیگی آسان ہو جائے گی۔

آمدنی کی پہچان اور ٹیکس کی کٹوتی کے نئے اصول:

خدمات کے معاہدوں اور اسٹاک انوینٹری کی قیمت کے تعین کے اصول مزید واضح کر دیے گئے ہیں۔

ٹی ڈی ایس (Withholding Tax) کے قواعد کو ٹیبل کی صورت میں منظم کیا گیا ہے تاکہ انہیں آسانی سے سمجھا جا سکے۔

سرمایہ جاتی منافع پر چھوٹ میں ترمیم:

دفعہ 54E، جو اپریل 1992 سے پہلے ٹرانسفر کیے گئے اثاثوں پر چھوٹ دیتی تھی، ختم کر دی گئی ہے۔

پرانی اور غیر ضروری چھوٹ کو ہٹا کر ایک سادہ اور شفاف نظام بنایا گیا ہے۔

نیا انکم ٹیکس بل: کیا تبدیل نہیں ہوا؟

ٹیکس کی شرحوں اور سلیبز میں کوئی تبدیلی نہیں:

موجودہ ٹیکس کی شرحوں یا سلیبز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

نئے ٹیکس ریجیم کی شرحیں ٹیبل کی شکل میں دی گئی ہیں، لیکن پرانے ریجیم کے لیے علیحدہ ٹیبل شامل نہیں کی گئی۔

انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

عدالتوں کے سابقہ فیصلوں میں جو اصطلاحات اور تعریفیں طے کی گئی ہیں، وہ برقرار رہیں گی تاکہ ٹیکس کے معاملات میں یکسانیت برقرار رہے۔

کرایہ، زندگی اور صحت بیمہ کے پریمیم، پراویڈنٹ فنڈ میں شراکت اور ہوم لون پر موجودہ کٹوتیاں اسی طرح برقرار رہیں گی۔

نئے ٹیکس سلیبز اور شرحوں سے کتنے ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہوگا؟

انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اسیسمنٹ ایئر 2024-25 کے لیے تقریباً 8.75 کروڑ افراد نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیا ہے۔ جو ٹیکس دہندگان نئے ٹیکس ریجیم کے تحت ٹیکس ادا کر رہے تھے، وہ ان ترامیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔

کیا نئے ٹیکس ریجیم میں تنخواہ پر اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن برقرار ہے؟

جی ہاں، نئے ٹیکس ریجیم میں 75,000 روپے کی اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی تنخواہ دار فرد کی آمدنی اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن سے پہلے 12,75,000 روپے تک ہے، تو اسے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔

ٹیکس دہندگان کو کتنا اضافی فائدہ حاصل ہوگا؟

انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، ٹیکس کی شرحوں، سلیبز اور چھوٹ میں ترامیم کی وجہ سے تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے ٹیکس دہندگان کو دستیاب ہوں گے، جو ان کے مالی بوجھ کو کم کرے گا۔

یہ ترامیم ملک میں ٹیکس کی وصولی کو زیادہ شفاف بنانے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے لیے اسے مزید آسان بھی بنائیں گی۔


Share: