غزہ ، 25/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ۳۱۵؍ دن کے دوران اسرائیلی فورسیز نے ۴۳۷۹؍ خلاف ورزیاں کی ہیں۔ دفتر کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے دوران ۱۲۸۶؍ فلسطینی جاں بحق جبکہ ۴۲۵۷؍ زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور تسنیم نیوز ایجنسی نے ان کی رپورٹ شائع کی ہے۔ غزہ کے میڈیا دفتر کے مطابق جنگ بندی کے عرصے میں اسرائیلی فورسیز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ۱۸۰؍ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے ۸۱۳؍ لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ دفتر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے ۸؍ ہزار سے زائد لاشیں اب بھی دبی ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں جنگ بندی کے انسانی پہلو پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق معاہدے کے تحت جس مقدار میں امدادی سامان غزہ پہنچنا تھا، اس کے مقابلے میں بہت کم امدادی ٹرک داخل ہوسکے۔ دفتر کے مطابق اب تک ۶۶۶۰۷؍ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، جبکہ معاہدے کے تحت متوقع تعداد ۱۸۹۰۰۰؍ ٹرک تھی۔ یوں طے شدہ مقدار کے صرف ۳۵؍ فیصد امدادی ٹرک غزہ پہنچ سکے۔ غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے دوران رفح کراسنگ سے لوگوں کی آمدورفت بھی متوقع تعداد سے خاصی کم رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۲۹۸۰۰؍ افراد کے رفح کراسنگ کے ذریعے سفر کی توقع تھی، تاہم صرف ۱۱۷۵۹؍ افراد کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دی گئی، جو متوقع تعداد کا تقریباً ۳۹؍ فیصد ہے۔
اعداد و شمار سے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود انسانی بحران کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جنگ بندی کا مقصد جہاں مسلح کارروائیوں کو روکنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا، وہیں معاہدے میں انسانی امداد کی رسائی اور متاثرہ آبادی کی نقل و حرکت سے متعلق بھی انتظامات شامل تھے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان دونوں شعبوں میں بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے غزہ کے حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بھی شامل ہے۔ دفتر کے مطابق ۳۱۵؍ دن کے دوران ۱۲۸۶؍ فلسطینی ہلاک اور ۴۲۵۷؍ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ملبے سے سیکڑوں لاشیں نکالے جانے کے باوجود ہزاروں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا اندازہ ظاہر کرتا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم ملبے تلے موجود لاشوں کی تعداد ایک تخمینہ ہے، حتمی طور پر تصدیق شدہ تعداد نہیں۔
رپورٹ میں امدادی ٹرکوں کے اعداد و شمار بھی جنگ بندی کے انسانی نتائج پر روشنی ڈالتے ہیں۔ متوقع ۱۸۹۰۰۰؍ ٹرکوں کے مقابلے میں ۶۶۶۰۷؍ ٹرکوں کی آمد کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی متوقع امدادی ترسیل غزہ تک نہیں پہنچ سکی۔ اسی طرح رفح کراسنگ سے گزرنے والے افراد کی تعداد بھی معاہدے میں متوقع تعداد کے نصف سے کم رہی۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود علاقے میں انسانی صورتحال، تباہ شدہ عمارتوں اور امدادی سامان کی رسائی بدستور ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔