بنگلورو ، 23/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں نندنی دودھ کی خرید اور فروخت کی قیمت میں فی لیٹر 8 سے 10 روپے تک اضافے کی تجویز ریاستی حکومت کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ کرناٹک کی مختلف تعاونی دودھ پیدا کرنے والی یونینوں کے نمائندوں نے منگل کو ودھان سودھا میں وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار سے ملاقات کرکے دودھ کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کی درخواست کی۔
وزیر اعلیٰ نے یونینوں کی تجویز پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے حکام سے دودھ کی پیداوار اور مارکیٹنگ سے متعلق جامع معلومات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران مویشی خوراک کی قیمتوں میں اضافے، فی لیٹر دودھ کی موجودہ پیداواری لاگت، مختلف اضلاع میں دودھ کی پیداوار، دودھ یونینوں کی جانب سے خریدی جانے والی مقدار اور دیگر ذرائع سے فروخت ہونے والے دودھ کی تفصیلات طلب کیں۔
ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے پڑوسی ریاستوں میں دودھ کی خرید اور فروخت کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کرنے کی ہدایت دی، تاکہ قیمتوں میں ترمیم سے متعلق فیصلہ دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جاسکے۔
وفد کی جانب سے بات کرتے ہوئے بامول کے صدر ڈی کےسریش نے کہا کہ مویشیوں کی خوراک، چارہ، ادویات اور دیگر انتظامی اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث دودھ کی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ خشک سالی کی صورتحال میں فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے سے زرعی آمدنی میں کمی آئی ہے اور چارے کی دستیابی بھی کم ہوئی ہے، جس سے دودھ پیدا کرنے والے کسان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی تعاونی تنظیموں اور نجی ڈیری اداروں نے دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ صارفین کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرناٹک میں گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے دودھ کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
دودھ یونینوں کے مطابق نجی ڈیری ادارے زیادہ مقدار میں دودھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث تعاونی یونینوں کو دودھ کی خریداری میں سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاست میں دودھ کی خریداری کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ بھی زور پکڑ چکا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں خشک سالی اور چارے کی قلت بتائی گئی ہیں۔
وفد نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں تعاونی یونینیں دودھ پیدا کرنے والوں سے ٹونڈ دودھ تقریباً 35 روپے فی لیٹر کے حساب سے خرید رہی ہیں، جبکہ ان کے مطابق آندھرا پردیش میں یہ شرح 41.50 روپے، کیر الہ میں 41.80 روپے، مہاراشٹرا میں 41 روپے اور تمل ناڈو میں 42.24 روپے فی لیٹر ہے۔
ڈی کےسریش نے کہا کہ خوردہ فروخت کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے معاملے میں بھی کرناٹک کے نرخ بعض پڑوسی ریاستوں کے مقابلے میں تقریباً 12 روپے فی لیٹر کم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے دودھ کی خرید اور فروخت دونوں نرخوں پر نظرِ ثانی کرنے کی اپیل کی۔
ریاست میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ حالیہ دنوں میں مختلف دودھ پیدا کرنے والی تنظیموں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔ 19 ستمبر کو بھی دودھ پیدا کرنے والوں نے فی لیٹر 8 روپے اضافے کا مطالبہ کیا تھا اور خشک سالی کے باعث چارے کی قلت کو پیداوار میں کمی کی اہم وجہ قرار دیا تھا۔ تاہم، فی الحال نندنی دودھ کی قیمت میں 8 سے 10 روپے کا اضافہ نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق پہلے پیداواری لاگت، دودھ کی خریداری، ریاستی و پڑوسی ریاستوں کے نرخ اور مارکیٹ میں دودھ کی دستیابی سمیت تمام متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے آئندہ فیصلہ کیے جانے کی توقع ہے۔