بنگلورو ، 18/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر صحت ،اقلیتی بہبود،اوقاف و حج یو ٹی قادر نے کینسر کی ادویات کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے مفاد میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے سنگین مرض کا علاج پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ مہنگی ادویات مریضوں کے لیے اضافی مالی پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔
یو ٹی قادر کے مطابق، کرناٹک کے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کی جانچ میں 254 دوا ساز کمپنیوں کی کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کم لاگت سے تیار ہونے والی بعض ادویات صارفین تک پہنچتے پہنچتے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) پر فروخت ہو رہی تھیں، جس سے مریضوں پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑ رہا تھا۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ادویات کی قیمتوں میں فرق کا جائزہ لینے اور مناسب کارروائی کے لیے ہدایات دی گئی تھیں۔ ساتھ ہی مرکزی قومی ادارۂ برائے ضابطۂ قیمتِ ادویات (این پی پی اے) اور مرکزی ادارۂ برائے ادویات کے معیار کا کنٹرول (سی ڈی ایس سی او) سمیت متعلقہ مرکزی اداروں کی توجہ بھی اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں فرق کے معاملے پر سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کا دائر کیا جانا بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے یہ مسئلہ عدلیہ کی توجہ میں آیا ہے۔
ان کے مطابق، این پی پی اے نے 137 کینسر ادویات کے تجارتی منافع پر زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کی حد مقرر کرتے ہوئے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس سے متعلقہ ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع ہے، جبکہ نئی قیمتیں 9 نومبر سے نافذ ہونے کی اطلاع ہے۔
یو ٹی قادر نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کو مناسب اور قابلِ برداشت قیمتوں پر ادویات فراہم کرنا حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ علاج کے اخراجات کی وجہ سے خاندانوں کو جائیداد فروخت کرنے یا قرض کے بوجھ تلے دبنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی بچانے والی ادویات عام لوگوں کی پہنچ میں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ قیمتوں پر قابو پانے کے ان اقدامات سے کرناٹک سمیت ملک بھر کے کینسر مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق، ادویات کی قیمتوں میں شفافیت لانے اور مریضوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔