ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایس آئی آر کے خلاف کرناٹک میں انڈیا اتحاد کی مشترکہ تحریک، یکم نومبر کو دہلی اور 5 نومبر کو بنگلورو میں احتجاج کا اعلان

ایس آئی آر کے خلاف کرناٹک میں انڈیا اتحاد کی مشترکہ تحریک، یکم نومبر کو دہلی اور 5 نومبر کو بنگلورو میں احتجاج کا اعلان

Sat, 17 Oct 2026 11:52:42    S O News
ایس آئی آر کے خلاف کرناٹک میں انڈیا اتحاد کی مشترکہ تحریک، یکم نومبر کو دہلی اور 5 نومبر کو بنگلورو میں احتجاج کا اعلان

بنگلورو ، 17/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے آئین، جمہوریت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے مشترکہ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد کی صدارت میں جمعہ، 16 اکتوبر کو ودھان سودھا کے احاطے میں واقع اراکینِ اسمبلی بھون میں منعقدہ ریاستی سطح کے اجلاس میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد بی کے ہری پرساد نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی صورت حقیقی و اہل ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے ایس آئی آر عمل کو مکمل طور پر منسوخ کرنے، حذف کیے گئے اہل ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کیے جانے کا معاملہ تشویش ناک ہے اور اس کی اصلاح ضروری ہے۔ مرکزی حکومت پر جمہوریت مخالف طرزِ عمل کا الزام عائد کرتے ہوئے ہری پرساد نے کہا کہ الیکشن کمیشن جیسے آزاد آئینی ادارے کو غیر جانب داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے، لیکن ان کے بقول کمیشن ایک سیاسی جماعت کے حق میں کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے حقِ رائے دہی پر کسی بھی حملے کے خلاف سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تمام جمہوری قوتوں کو متحدہ جدوجہد کرنی چاہیے۔

اجلاس میں ریاست میں مشترکہ تحریک کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن، سماج وادی پارٹی اور فارورڈ بلاک سمیت اتحادی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی ریاستی سطح سے لے کر اضلاع اور تعلقہ جات تک احتجاجی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرے گی۔

ہری پرساد نے بتایا کہ یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والے بڑے احتجاج میں کرناٹک سے انڈیا اتحاد کی تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس کے بعد 5 نومبر کو بنگلورو میں ایس آئی آر کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر بڑے احتجاجی اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا۔ بعد ازاں تحریک کو ضلعی اور تعلقہ سطح تک وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور پابندیاں عائد کرکے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ ان کے مطابق، آئین اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کی یہ جدوجہد محض سیاسی جماعتوں کی تحریک نہیں، بلکہ ملک میں جمہوریت اور شہریوں کے آئینی حقوق کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

اجلاس میں شریک اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایس آئی آر کے ممکنہ اثرات، ووٹر فہرستوں میں خامیوں اور آئندہ احتجاجی حکمتِ عملی پر اپنی آرا پیش کیں۔ مقررین نے کسانوں، مزدوروں، خواتین، طلبہ، نوجوانوں اور ترقی پسند تنظیموں کو ساتھ لے کر حقِ رائے دہی کے تحفظ کی تحریک کو وسیع عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں منظور کیے گئے اہم فیصلوں میں کرناٹک میں انڈیا اتحاد کی رابطہ کمیٹی کی تشکیل، یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاج میں بڑی تعداد میں شرکت اور 5 نومبر کو بنگلورو میں ایس آئی آر مخالف احتجاجی اجتماع کا انعقاد شامل ہیں۔

اجلاس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری گوپی ناتھ پلانی اپن، سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری کے۔ پرکاش، سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ساتھی سندریش، سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر منجپا یادو اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن، فارورڈ بلاک سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما اور نمائندے شریک تھے۔


Share: