بنگلورو، 7 فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کی بچت اور سرمایہ کاری میسور سیلز انٹرنیشنل لمیٹڈ (ایم ایس آئی ایل) جیسے سرکاری اداروں میں مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس پر حکومت کی ضمانت حاصل ہے۔ وہ ایم ایس آئی ایل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جہاں ادارے کے چِٹ فنڈ نظام کے لیے نئے سافٹ ویئر اور موبائل ایپ کا اجرا کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ایم ایس آئی ایل ایک معتبر سرکاری ادارہ ہے جو کئی دہائیوں سے عوام کے اعتماد پر پورا اتر رہا ہے۔ سنہ 2005 سے چِٹ فنڈ اسکیم کا آغاز کیا گیا جس کا بنیادی مقصد عوام میں بچت کی عادت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بچت کی ثقافت ہر فرد کے لیے ضروری ہے کیونکہ مشکل وقت میں یہی جمع پونجی سہارا بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی ضمانتی اسکیمیں—شکتی، گرہا لکشمی، یووانِدھی اور اَنّا بھاگیہ—بلا امتیاز نافذ کی گئی ہیں۔ ان اسکیموں کے ذریعے عوام، خصوصاً خواتین کے پاس جو رقم بچتی ہے، اسے محفوظ سرمایہ کاری میں لگایا جانا چاہیے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سرمایہ کاری کی رقم کا محفوظ رہنا سب سے زیادہ اہم ہے اور ایم ایس آئی ایل کا چِٹ فنڈ نظام اس تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ نجی چِٹ فنڈ کاروبار میں دھوکہ دہی کے امکانات رہتے ہیں، جبکہ ایم ایس آئی ایل ایک سرکاری ادارہ ہونے کے ناطے عوام کی جمع پونجی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ ان کے مطابق ادارہ صرف پانچ فیصد منافع حاصل کرتا ہے اور بقیہ فائدہ براہِ راست عوام کی مالی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا میں چِٹ فنڈ شعبے کا سالانہ کاروبار تقریباً 47 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ کرناٹک میں یہ حجم محض 500 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں اس شعبے کو وسعت دے کر 10 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، شادی اور مکان جیسے اہم مقاصد کے لیے عوام کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
سدارامیا نے کہا کہ ایم ایس آئی ایل نے صارفین کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے نیا سافٹ ویئر اور موبائل ایپ متعارف کرائی ہے تاکہ شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مائیکرو فنانس اداروں کے قرضوں کے جال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ ان قرضوں کے باعث مشکلات میں پھنس جاتے ہیں، اسی لیے حکومت نے چھوٹے قرضوں سے متعلق آرڈیننس 2025 نافذ کیا ہے جس کا مقصد قرض لینے والوں کو ہراسانی سے بچانا اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
آخر میں وزیرِ اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی بچت کو محفوظ سرکاری اداروں میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائیں تاکہ ان کا مستقبل مالی طور پر مستحکم اور محفوظ رہ سکے۔