ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پرینکا گاندھی کا حکومت سے سخت سوال، طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کیوں؟

پرینکا گاندھی کا حکومت سے سخت سوال، طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کیوں؟

Tue, 28 Jul 2026 19:30:42    S O News

نئی دہلی، 28/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)  لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور دیگر طاقت کے استعمال کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی۔

پرینکا گاندھی نے ایوان میں کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا احتجاج کرنے والے طلبہ دہشت گرد تھے، جن کے خلاف اتنی سخت کارروائی کی گئی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ پر پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کیا یہ فیصلہ وزیراعظم نے کیا یا وزیر داخلہ نے؟ انہوں نے کہا کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سوالات کے جواب کا منتظر ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ چند روز قبل وہ دہلی کے رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال گئی تھیں، جہاں احتجاج کے دوران زخمی ہونے والی ایک طالبہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زیر علاج تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آمد سے کچھ دیر پہلے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سمیت کئی رہنما بھی طالبہ سے ملنے اسپتال پہنچے تھے۔

پرینکا گاندھی کے مطابق جب وہ طالبہ کی والدہ سے ملیں تو وہ شدید صدمے میں تھیں۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آنے پر شکریہ، لیکن وہ کسی سے ملنا یا بات کرنا نہیں چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سے کئی بڑے رہنما آ رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں، مگر ان لوگوں کو بھی آنا چاہیے جو ان کی بیٹی کی اس حالت کے ذمہ دار ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس ماں کے چہرے اور لہجے سے اس کا درد صاف جھلک رہا تھا اور وہ غم سے کانپ رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس ماں کی تکلیف نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایوان میں حکومت سے یہ سوال کریں کہ طلبہ کے خلاف اتنی سخت کارروائی کیوں کی گئی۔ ان کے مطابق طالبات کے ساتھ بدسلوکی، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال جیسے معاملات پر حکومت کو پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

پرینکا گاندھی نے حکومت کی تعلیمی اور روزگار سے متعلق پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو مسلسل کمزور کیا گیا، جس کا براہ راست اثر نوجوانوں پر پڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کا امتحانی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور بار بار ہونے والے پیپر لیک نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں 152 پیپر لیک کے واقعات پیش آئے، جن سے کروڑوں طلبہ متاثر ہوئے، لیکن اب تک پیپر لیک مافیا کے کسی اہم رکن کو سزا نہیں دی جا سکی۔ ان کے مطابق قانون سازی اور نئی کمیٹیاں تشکیل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اصل ضرورت مؤثر کارروائی اور جوابدہی کی ہے۔

اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی نے 2024 میں منظور ہونے والے اینٹی پیپر لیک قانون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ قانون نافذ ہونے کے باوجود آج تک کسی ملزم کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے نام تو عام کیے جا رہے ہیں، مگر پیپر لیک کے ملزمان کے خلاف اسی شدت سے کارروائی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد صرف ویڈیوز بنانے یا نئی کمیٹیاں قائم کرنے سے بحال نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ ان کے بقول وزیراعظم کو ’کیمرے کا زاویہ نہیں بلکہ دل کا زاویہ بدلنے‘ کی ضرورت ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ پولیس کی لاٹھیاں صرف طلبہ کی پیٹھ پر نہیں پڑیں بلکہ اس سے حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ انصاف کرے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، لیکن سب سے بڑی ناانصافی اس وقت ہوتی ہے جب نوجوانوں کے خواب اور ان کا مستقبل چھین لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نوجوان مایوس ہو گیا تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی شکست ہوگی، اس لیے حکومت کو طلبہ کے خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔


Share: