ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بیرین سنگھ کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا بیان: ’امن بحالی اور عوام کے زخموں کا علاج اولین ترجیح ہونی چاہیے

بیرین سنگھ کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا بیان: ’امن بحالی اور عوام کے زخموں کا علاج اولین ترجیح ہونی چاہیے

Mon, 10 Feb 2025 11:53:15    S.O. News Service

نئی دہلی   ، 10/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اتوار (9 فروری) کو گورنر سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب پیر (10 فروری) سے منی پور اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اور اپوزیشن نے ریاستی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی تیاری کر رکھی تھی۔

بیرن سنگھ کے استعفے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی ردعمل دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ’’بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے تقریباً دو سال تک منی پور میں تفریق کو ہوا دی۔ ریاست میں تشدد، جانی نقصان اور ہندوستان کے تصور کی تباہی کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں بدستور حمایت دی۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں آگے لکھا کہ ’’وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کا استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کا بڑھتا ہوا دباؤ، سپریم کورٹ کی جانچ اور کانگریس کی جانب سے لائے گئے عدم اعتماد کی تحریک نے انہیں جوابدہ بنایا لیکن سب سے ضروری ہے ریاست میں امن بحال کرنا اور منی پور کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانا۔‘‘ علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کو فوراً منی پور کا دورہ کرنا چاہیے لوگوں کی باتیں سننی چاہیے اور انہیں ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے اپنے منصوبہ کے بارے میں واضح کرنا چاہیے۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’کل کانگریس پارٹی منی پور میں وزیر اعلیٰ اور ان کی وزراء کونسل کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی، لیکن بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس مئی 2023 کے آغاز سے ہی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی، جب منی پور میں بدامنی پھوٹ پڑی تھی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ تاخیر سے آیا۔ اب منی پور کے عوام ہمارے ’فریکوینٹ فلائر‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں، جو اس وقت فرانس اور امریکہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ انہیں گزشتہ 20 ماہ میں نہ تو منی پور جانے کا وقت ملا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوئی۔‘‘


Share: